نا اہلی کیس

اسلام آبادہائی کورٹ نے نا اہلی کیس میں آصف علی زر داری سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری نا اہلی کیس میں آصف علی زر داری سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرتے ہوئے پری ایڈمیشن نوٹس جاری کردیا۔ جمعرات کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان اور عثمان ڈار کی آصف زرداری کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دور ان چیف جسٹس نے کہاکہ سیاسی معاملات کیلئے پارلیمنٹ بہتر فارم ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایف آئی اے کا کیس ہے اور ایف آئی اے حکومت کے انڈر آتی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ عدالتوں کو ایسے سیاسی معاملات میں نہیں لایا جائے۔

عدالت نے کہاکہ عدالت کا ہرمنٹ عوامی مفاد کےلئے ہے،اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جائیں۔انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ معاملے پر کمیٹی بنانا چاہے تو بنائے۔انہوںنے کہاکہ پارلیمانی کمیٹی کی انکوائری کے بعد عدالت آئیں۔سماعت کے دور ان سابق صدر کی نااہلی سے متعلق کیس میں پانامہ کا ذکر ہوا ۔ عدالت نے کہاکہ معاملہ پارلیمنٹ سمیت دیگر فورم پر حل نہ ہوا تب سپریم کورٹ گیا۔

چیف جسٹس نے کہاکہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھیں۔ انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کیوں اٹھایا، باقی فورم پانامہ ایشو کو نہیں اٹھا رہے تھے، اس لیئے سپریم کورٹ نے کیس اٹھایا۔ وکیل سکندر بشیر نے کہاکہ میں نے پانامہ فیصلہ پڑھا ہے اس کا مجھے علم ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ درخواست گزار قابل احترام شخصیت ہیں، مگر اور فورم موجود ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ اس کیس کا بہترین فورم پارلیمنٹ ہے، درخواست گزار کو پارلیمنٹ سے رجوع کرنا چاہیے ۔ انہو ںنے کہاکہ پارلیمنٹ کو خود احتسابی کی مثال قائم کرنی چاہیے،ہم غیر ضروری تنازعات میں نہیں پڑنا چاہتے ۔انہوںنے کہاکہ اس عدالت میں پہلے ہی ہزاروں مقدمات زیر التواءہیں ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ درخواست گزار ایف بی آر سے بھی رجوع کر سکتا ہے ، کسی رکن پارلیمنٹ کے خلاف درخواست کےلئے دیگر فورمز بھی موجود ہیں ۔ چیف جسٹس نے عثمان ڈار کے وکیل سے کہاکہ جو وقت آپ پارلے منٹ کے بجائے ادھر لیں گے وہ دیگر سائلین کے کیسز پر لگنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پارلےمنٹ اس حوالے سے خصوصی کمیٹی قائم بھی قائم کر سکتی ہے ۔

وکیل عثما ن ڈار نے کہاکہ ہم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت نااہلی کی درخواست دائر کی۔وکیل عثمان ڈار نے کہاکہ ہم آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت آصف زرداری کی نااہلی مانگ رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا آصف علی زرداری کے مد مقابل پی ٹی آئی کا کوئی اور امیدوار الیکشن لڑ رہا تھا؟ ۔کیا آصف زرداری کے کسی مدمقابل امیدوار نے انتخابی عذر داری کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کیا؟۔

چیف جسٹس نے کہاکہ آصف زرداری کی نااہلی ان دستاویزات کی بنیاد پر مانگ رہے ہیں جو الیکشن کے بعد منظر عام پر آئیں۔

وکیل عثمان ڈار نے کہاکہ یہ نیویارک کے متعلقہ شعبہ سے تصدیق شدہ اور نوٹرائزڈ ڈاکومنٹس ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے آپ عدالت کو مطمئن کریں کہ آپ کے پاس کوئی اور فورم دستیاب نہیں۔بعد ازاں عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری سے جواب طلب کرتے ہوئے پری ایڈمیشن نوٹس کر دیا۔

عدالت نے کہاکہ دو ہفتوں میں سابق صدر آصف علی زرداری جواب جمع کرائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں