متاثرین اور الاٹیز

اسلام آباد کے متاثرین اور الاٹیز کے معاملے میں سی ڈی اے، پولیس سب ملوث ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد کے متاثرین اور الاٹیز کے سی ڈی اے کے خلاف مقدمات پر کہاہے کہ متاثرین اور الاٹیز کے معاملے میں سی ڈی اے، پولیس سب ملوث ہیں۔ جمعرات کو اسلام آباد کے متاثرین اور الاٹیز کے سی ڈی اے کے خلاف مقدمات پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی ۔ دور ان سماعت وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان،سابق وزیر خزانہ اسد عمر،ایم این اےراجہ خرم نواز عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے وفاقی دارالحکومت کے متاثرین کے مسائل حل کرنے کے لیے کمیشن قائم کیا تھا،ای بارہ،آئی17،ایچ 16،جی 12،ایف 12 کے متاثرین ،کری ماڈل ویلیج، سی 14،15 اور دیگر سلیکٹرز کے متاثرین بھی شامل تھے ۔ اسد عمر نے کہاکہ متاثرین اور الاٹیز کے حوالے سےرپورٹ میں چار کیٹیکریز بنائی ہیں،1960 میں سی ڈی اے کو لامحدود اختیارات دئیے گئے۔

انہوںنے کہاکہ سی ڈی کے غیر محدود اختیارات ختم کئے جائیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہماری لیے مشکل ہے اس کے لیے ماسٹر پلان تبدیل کرناپڑےگا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ سی ڈی اے کے سینئر افسران نے ماسٹر پلان کا مسودہ بھی نہیں پڑھاہوتا۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد کے مسائل کے مستقل حل کے لیے ہم نے ایک فیصلے میں کمیشن کی تجویز دی تھی۔ اسد عمر نے کہاکہ پروفیشنل ایکسپرٹس کے ساتھ کمیشن بن چکا ہے چیئرمین سی ڈی اے بھی اس کا حصہ ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دنیا میں زمین حاصل کرنے کا کبھی مسئلہ نہیں ہوتا،چیف جسٹس نے اسد عمر کو ہدایت کی کہ جلدی نہ کیجئے گا گائیڈ لائن بنا دیں تاکہ مستقبل میں بھی ایسا نہ ہو۔ انہوںنے کہاکہ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اصل کون متاثر ہ اور نقل کون، انہوںنے کہاکہ متاثرین اور الاٹیز کے معاملے میں سی ڈی اے، پولیس سب ملوث ہیں۔ اسد عمر نے کہاکہ اتنا زیادہ گند،زیادتی کی گئی کہ سفید پوش ڈرتا ہے کہ الزام نہ لگ جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ٹیکنیکل ایشو ہے اس کو حل کیا جاسکتا ہے،پبلک انٹرسٹ کا بڑا کام ہے ہم نے کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے اسد عمر کو ہدایت کی کہ صحیح کام کرنا ہے تو گھبرانا نہیں چاہیے۔بعد ازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہاکہ پہلی بار جب میں پٹشنر بنا تھا اس وقت دو مسئلے تھے، ایک مسئلہ ادائیگی کا تھا دوسرا الاٹیز کا تھا۔اسد عمر نے کہاکہ وہ الاٹیز جنہیں 1985 سے زمین نہیں ملی تھی ۔ انہوںنے کہاکہ اس وقت پھر جج صاحب نے کہا کہ آپ کے سارے مسائل حل ہونگے ، جج صاحبان نے کہا تھا ایک کمیشن بنادیتے ہیں جو تمام مسلئے حل کرے۔اسد عمر نے کہاکہ جج صاحب کی بھی خواہش ہے کہ الاٹیز کے ساتھ ساتھ جو بھی اور مسئلے ہیں وہ بھی حل ہوں، ہماری بھی خواہش ہے کہ 40 اور 50 سال سے جو مسئلے ہیں اسلام ان میں ۔ انہوںنے کہاکہ وہ سارے مسئلے بھی حل ہو جائیں ، ہم امید بھی کرتے ہیں اور فاضل جج صاحب کی بھی خواہش ہے کہ سارے مسئلے ختم ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں