اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت کی درخواست کو خارج کر دیا

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں دی جانے والی سزا کے فیصلے کے خلاف دائر طبی بنیاد پر ضمانت کی درخواست کو خارج کر دیا ہے ۔

پیر کو جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن کے بینچ نے طبی بنیاد پر ضمانت کی درخواست پر سوا بارہ بجے سنایا جا نے والا فیصلہ 12 بج کر 43 منٹ پر سنایا۔ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور طلال چوہدری کے علاوہ لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی عدالت میں موجود تھی۔ اسلام آباد ہائی کور ٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں دی جانے والی سزا کے فیصلے کےخلاف دائر طبی بنیاد پر ضمانت کی درخواست کو خارج کر دیا۔بعد ازاں نواز شریف سزا معطلی کا نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا جس میں کہاگیاکہ یہ کیس غیر معمولی حالات کا نہیں بنتا ۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہاکہ نواز شریف کے معاملے میں مخصوص حالات ثابت نہیں ہوئے ۔
عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کے نتیجے میں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ نواز شریف کو علاج معالجے کی سہولیات دستیاب ہیں۔فیصلے میں کہاگیاکہ نواز شریف طبی بنیادوں پر ضمانت کے مستحق نہیں ہیں، جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹ میں نواز شریف کی جان کو خطرات لاحق نہیں تھے۔

یاد رہے کہ 19 فروری 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال سزا کی معطلی کےلئے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن کے بینچ نے وکیل دفاع خواجہ حارث اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
یاد رہے کہ اسلام آبادہائیکورٹ نے 20 فروری کو نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی 7 سال قید کی سزا کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کو سنائے گئے پاناما کیس کے فیصلے کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دیا گیا اور عدالت عظمیٰ نے نیب کو شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا۔8 ستمبر 2017 کو نیب نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز، فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور ایون فیلڈ ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے۔احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی جسے بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیا تھا۔احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید اور فیلگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں