ٹھوس ثبوت

بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری میں چوہدری نثار کے ٹھوس ثبوت اور شواہد نے اہم کردار ادا کیا

اسلام آباد(آئی این پی ) متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری کو یقینی بنانے کےلئے سابق وزیرداخلہ اور سینئر سیاستدان چوہدری نثار علی خان کی طرف سے برطانوی حکومت کو بجھوائے گئے ٹھوس ثبوت اور شواہد سے مطمئن ہونے کے بعد لندن پولیس نے انہیں گرفتار کیا ہے ، چوہدری نثار علی خان نے 2016 میں پاکستان کی سالمیت کے منافی متنازع تقریر کے بعد برطانیہ کا خصوصی طور پر دورہ کیا تھا اور برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے جو اس وقت برطانیہ کی وزیرداخلہ کے طور پر فرائض انجام دے رہی تھیں سے اہم ملاقات کی تھی اور انہیں اور برطانوی حکام کو الطاف حسین کے خلاف اہم شواہد اور ثبوت دیے تھے ۔چوہدری نثار نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اور نفرت انگیز تقریر کے کیس میں الطاف حسین کے ریڈ وارنٹ کے اجراءکی منظوری بھی دی تھی ۔

ذرائع کے مطابق چوہدری نثار علی خان نے برطانوی حکام کے سامنے سخت موقف اپنایا تھا کہ اگر اتنے ٹھوس شواہد اور ثبوتوں کے بعد بھی برطانیہ نے الطاف حسین کے خلاف ایکشن نہ لیا تو تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ،ا س دوران چوہدری نثار علی خان نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی لندن اس مقصد کےلئے بلوایا تھا اور برطانیہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں تمام ثبوت ان کے حوالے کئے گئے تھے جبکہ چوہدری نثار علی خان نے سندھ میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت سے بھی اہم کوآرڈینیشن کی اور الطاف حسین کے خلاف درج تمام غداری کے مقدمات کے دستاویزی ثبوت اور ویڈیوز بھی ساتھ لے کر لندن گئے تھے ۔

تفصیلات کے مطابق الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کو کراچی میں اپنی جماعت کے کارکنان سے ایک ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی تھی، الطاف حسین کی 22 اگست کی تقریر کے بعد اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار حرکت میں آئے اور انہوں نے اسی دن2 2 اگست کی شام کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بانی ایم کیو ایم کی تقریر کو پاکستان مخالف قرار دیا تھا,چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کی تقریر ریاست کے خلاف اعلان جنگ ہے، اس طرح کی نفرت انگیز تقاریر کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہ کہ الطاف حسین کی تقریر کامعاملہ برطانیہ کے سامنے اٹھایا جائے گا,چو ہدری نثار نے ستمبر 2016 میں الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوایا تھا،اس ریفرنس کے ساتھ الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کی کاپی اور اپنی جماعت کے لوگوں کو تشدد اور بدامنی پر اکسانے کے مبینہ شواہد بھی برطانوی حکام کو فراہم کیے گئے تھے،اس ریفرنس میں برطانوی حکام سے کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائد نے نہ صرف برطانوی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہذا ان کے خلاف برطانوی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے،اس ریفرنس کے بھجوائے جانے کے بعد فروری 2017 میں پاکستان کی وزارت داخلہ نے الطاف حسین کے ریڈ ورانٹ جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔اس حوا لے سے سا بق و فا قی وزیر دا خلہ چو ہدری نثار نے ایک پر یس کا نفر نس میںکہا تھا کہ الطاف حسین کے خلاف منی لا نڈر نگ سمیت تمام کیسز پر بر طا نوی ہا ئی کمشنر سے با ت ہو ئی، کرا چی میں پکڑ ے گئے اسلحہ کی تیزی سے تحقیقات ہو رہی ہیں، بر طا نیہ میں ا لطاف حسین کے گھر سے جو رقم اور کا غزات ملے تھے ان کا غزات میں کرا چی سے ملنے والے ہتھیا رو ں کی تفصیلات درج تھیں، انہوں نے کہا یہ کا غزات کسی کے ذ ر یعے مجھ تک پہنچے ہیں، اور ان میں ہتھیاروں کی قیمتیں بھی لکھی ہیں، دستاویزات کے مطا بق الطاف حسین اور ان کی ٹیم کا فو کس اسلحہ پر تھا اور یہ اسلحہ نا ئن زیرو کے قر یب سے ہی بر آ مد ہوا ہے، الطاف کے خلاف بر طا نیہ کو بجھوا ئے ریفر نس کا با ضا بطہ سر کا ری جواب مو صو ل ہو گیا ہے جو نہ صرف غیر تسلی بخش ہے بلکہ اس پر شد ید تشو یش ہے، انہوں نے بتا یا بر طا نیہ پر وا ضح کر دیا ہے کہ ایک شخص کی خا طر دو نوں ملک بند گلی میں نہ پھنسیں۔الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر کے بعد 30 اگست 2016 کوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 اور 17 کے تحت کارروائی کی سفارش کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں