بھارت نے 3 ہائیڈرو پاور منصوبوں کے اعداد و شمار پاکستان کو فراہم کردیے

لاہور:بھارت کی جانب سے پاکستانی وفد کو اپنے ہائیڈرو پاور منصوبوں کو معائنہ کروانے کے بعد سندھ طاس معاہدے کے تحت اب بھارت نے پاکستان کو دریا کے بہاو¿ پر بنائے جانے والے منصوبوں کے اعداد و شمار بھی فراہم کردیے ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ عرصہ قبل بھارت نے پاکستانی عہدیداروں کو بلتی کلاں، کلاروس، اور تماشا ہائیڈرو پاور منصوبوں کے اعداد و شمار فراہم کیے تھے ،جنہیں دریائے جہلم کے بلتی کلاں نالے اور کلاروس نالے اور دریائے سندھ کے تماشا نامی ذیلی اخراج پر بنانے کا منصوبہ ہے۔اس حوالے سے وفاقی سیکریٹری برائے آبی ذخائر خواجہ شمائل نے بتایا کہ ’بھارت کی جانب سے مستقبل قریب میں تعمیر کیے جانے والے منصوبوں کے اعداد و شمار پاکستان کو فراہم کیے جانا ایک اہم پیشرفت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ٹیم ان منصوبوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لے کر بھارتی حکام کو جواب دے گی۔دوسری جانب پاکستانی کمشنر برائے سندھ طاس سید مہر علی شاہ نے بتایا کہ ’سندھ طاس معاہدے کے تحت کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے کا خاکہ فراہم کرنا ضروری ہے، آخری مرتبہ بھارت نے 2013 میں اس طرح کے اعداد و شمار فراہم کیے تھے، لیکن اس کے بعد نہیں کیے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ہماری جانب سے معلومات طلب کرنے پر انہوں نے ہائیڈرو پاور کے ان 3 چھوٹے منصوبے کے اعداد و شمار ہمیں فراہم کیے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر معاہدے کے مطابق اس طرح کے منصوبوں کے اعداد و شمار فراہم کردیے جائیں تو کئی مسائل منصوبوں کی سطح پر ہی حل ہوسکتے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کا 3 رکنی وفد بھارت میں دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے 4 ہائیڈرو پاور منصوبوں کا جائزہ لے کر یکم فروری کو وطن واپس پہنچا تھا۔وفد نے جن ہائیڈرو پاور منصوبوں کا معائنہ کیا تھا ان میں ایک ہزار میگا واٹ کا پکال دل، 48 میگا واٹ کا لوئر کلنی، 850 میگا واٹ کا راٹلے اور 900 میگا واٹ کا بگھلیار ڈیم منصوبہ شامل ہے۔اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کے لیے اس دورے کو خوش آئند قرار دیا تھا۔اس کے ساتھ انہیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ بھارت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار سے دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں