حسین لوائی اور

جعلی اکاﺅنٹس کیس ،زر داری اور فریال تالپور پیش ، حسین لوائی اور طحہ کی ضمانت کی درخواست مسترد

اسلام آباد (این این آئی)احتساب عدالت نے جعلی اکاﺅنٹس کیس کی سماعت کے دور ان حسین لوائی اور طحہ رضا کی ضمانت کی درخواست مسترد کر تے ہوئےہتھکڑیاں لگا کر ملزمان کو پیش کرنے پر جیل حکام کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے جبکہ ملزم انور مجید اور عبدالغنی مجید کو پھر عدالت میں پیش نہ کیا جا سکاجس پرچیف سیکرٹری سندھ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو شو کاز نوٹسز جاری کر تے ہوئے دونوں افسران کو ذاتی طورپر طلب کرلیا گیا ۔

منگل کو جعلی اکاﺅنٹس کیس میں ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک نے کی ۔ سابق صدر آصف علی زر داری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی پانچویں بار عدالت میںپیش ہوئیں ۔

آصف زرداری کی نمائندگی ان کے وکیل ایڈوکیٹ فاروق ایچ نائیک کر رہے تھے ۔سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی حسین ہوائی کو اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لایا گیاجبکہ دیگر ملزمان بھی عدالت میں پیش ہوئے ،ریفرنس میں آصف علی زرداری، فریال تالپور ، حسین لوائی،زین ملک سمیت 30 ملزمان نامزد ہیں ہیں ،جعلی بنک اکاونٹس میں احتساب عدالت نے تمام ملزمان کو طلب کر رکھا تھا ۔ دور ان سماعت کراچی میں قید عبد الغنی مجید کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی ۔ وکیل نے کہاکہ ملزم کے پروڈیکشن آرڈر جاری ہوئے تھے لیکن وہ بیمار ہے ۔وکیل نے کہاکہ بیماری کے باعث انہیں پیش نہیں کیا جا سکتا ۔اڈیالہ میں قید حسین لوائی کے وکیل کی جانب سے رہائی کی درخواست پر وکیل نے دیلائل دیتے ہوئے کہاکہ حسین لوائی کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔وکیل حسین لوائی نے کہاکہ حسین لوائی کو مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا جائے۔

وکیل حسین لوائی نے کہاکہ باقی ملزمان کی طرح حسین لوائی کو بھی آزاد رہ کر ٹرائل کا سامنا کرنے کی اجازت دی جائے ۔ نیب پراسیکورٹر کی جانب سے رہائی کی درخواست کی مخالفت کی گئی ۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ کیس نیب کو منتقل ہوا ہے تو ملزمان کی حیثیت بھی برقرار رہے گی ۔

نیب نے استدعا کی کہ ملزم کی رہائی کی درخواست خارج کی جائے ۔احتساب عدالت نے حسین لوائی اور طحہ رضا کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ دور ان انور مجید اور عبدالغنی مجید کو پھر عدالت میں پیش نہ کیا جا سکا۔ تفتیشی افسر نے کہاکہ چیف سیکرٹری سندھ اور سپرنٹنڈنٹ جیل کو خط لکھا لیکن جواب نہیں دیا گیا۔عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو شوکاز نوٹسز جاری کر دئیے عدالت نے کہاکہ کیوں نہ آپ کے خلاف کارروائی کی جائے،کیوں نہ آپکی تنخواہ روک لی جائے۔ دور ان سماعت حسین لواہی کے وکیل کی جانب سے ہتھکڑیاں لگا کر پیش کرنے کے خلاف درخواست دائر کی گئی ۔

عدالت نے ہتھکڑیاں لگا کر ملزمان کو پیش کرنے پر جیل حکام کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔ جج ارشد ملک نے کہاکہ سر دست ہتھکڑیاں کھول دیں باہر جا کر لگا لینا۔دور ان سماعت عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اور جیل سپر نٹنڈنٹ ملیر جیل کو ذاتی طور پر طلب کر لیا۔بعد ازاں جعلی اکاونٹس کیس کی سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی گئی ۔ دور ان ملزمان کو ریفرنس کی کاپیاںاس سماعت پر بھی فراہم نہیں کی جا سکیں جج ارشد ملک نے تفتیشی افسر کو ہدایت کرکتے ہوئے کہاکہ اگلی سماعت سے 2 دن پہلے ریفرنس کی کاپیاں جمع کروادیں۔یاد رہے کہ احتساب عدالت میں آصف زرداری 8 اپریل کو پہلی ،16 اپریل کو دوسری 29 اپریل کو تیسری جبکہ 9 مئی کو چوتھی بار پیش ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں