خود این آر او

جو خود این آر او لے کر بیٹھا ہے وہ کسی کو کیا این آر او دے گا ،فتح نواز شریف کے بیانیے کی ہی ہو گی

لاہور( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ جو خود این آر او لے کر بیٹھا ہے وہ کسی کو کیا این آر او دے گا ،عمران نیازی کے فسطائی ہتھکنڈے سوائے نقصان کے کچھ نہیں کریں گے ، ملک میں صرف جمہوریت ، آئین کو دوام ہے اور فتح نواز شریف کے بیانیے کی ہو گی ، پیچھے کوئی بھی ہو لیکن سامنے شکل عمران خان کی ہے اور ہم نے مہنگائی ، بیروزگار اور ملک کی بد حالی کا جواب عمران خان سے ہی لینا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار شاہد خاقان عباسی ، خواجہ آصف اور احسن اقبال نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مریم اورنگزیب، انجینئر خرم دستگیر ، مصدق ملک سمیت دیگر رہنما ، اراکین اسمبلی اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج تیسرا ہفتہ ہے نواز شریف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ہمیں فسطائی ہتھکنڈوں سے آزمایا جا رہا ہے لیکن ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔

ہم نے جیلیں دیکھی ہوئی ہیں ۔ آج بھی سیاست کا محور نواز شریف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ملک کی خدمت کی اور عوامی مسائل حل کئے،نیب اور دیگر کیسز کی حقیقت کو سب جانتے ہیں،آج سلیکٹڈ حکومت ہے، ہم نے پہلے بھی ان کا مقابلہ کیا ہے آئندہ بھی عوام کے حق کی جنگ لڑ تے رہیں گے ،ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی آمریت میں ایک سیاہ باب کا اضافہ ہوا ہے جس میں رانا ثنا اللہ پر 15کلو گرام ہیروئن ڈال دی گئی ،ماضی میں بھینس چوری کے مقدمات ہوتے تھے لیکن نئے پاکستان میں یہ نئی شکل ہے۔انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ بہادر آدمی ہیں وہ ہر مشکل کا مقابلہ کرینگے۔انہوں نے ضیاءالحق ، مشرف کی آمریت کا مقابلہ اب وہ عمران خان کی آمریت کا بھی مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان نے این آر او دینا ہے تو اپنے اس وزیر کو دیں جو وزارت صحت کے اربوں روپے لے کر بھاگ چکا ہے ، اپنی جماعت کے ان رہنماﺅں کواین آر او دیں جن کے اربوں روپے کے اثاثے باہر پڑے ہیں ، خود کو این آر او دیں ۔ عمران بھول جائیں کہ ان کے پاس این آر او دینے کا اختیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان صرف جھوٹ بولتا ہے اور اپوزیشن پر الزامات لگاتا ہے ۔ انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پیچھے کوئی بھی ہو ہمارے سامنے شکل عمران خان کی ہے ، ہم نے مہنگائی ، بیروزگاری اور معیشت کی ابتری پر عمران خان سے جواب لینا ہے ۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ملاقات پر پابندی لگانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ نواز شریف کا باہر کی دنیا سے رابطہ ختم کیا جائے لیکن حکومت کی یہ کوشش باآور ثابت نہیں ہو گی۔اس طرح کے اقدامات نواز شریف اور ان کے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے ۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے تیس سال میں جمہوریت کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھایا ۔ آج رانا ثنا اللہ کو استحقاق کے باوجود ادویات ، کھانے اور پانی سے محروم رکھا جارہا ہے ۔ ان کے اہل خانہ کو دروازے پر گھنٹوںرکھا گیا ۔ لیکن یہ چیزیں نقصان کریں گی اور انہیں دوام نہیں ہے ، دوام صرف جمہوریت، آئین کو ہے او رفتح نواز شریف کے بیانیے کی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی کو این آر او دینے کی پوزیشن میں نہیں ،جو خود این آر او پر بیٹھا ہے وہ کسی کو کیا این آر او دے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں بھی پرانی بلکہ قدیم روایات چل نکلی ہیں، پہلے چھوٹے دیہاتوں میں مخالفین پر کلاشنکوف اور اس طرح کی چیزیں ڈال دی جاتی تھی ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میری اہلیہ اور صاحبزادہ نیب کے سامنے پیش ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں