حکومت نے بجٹ خسارے کامعا ملہ حل کرنے کیلئے تاحال کوئی پالیسی نہیں دی ‘خواجہ حبیب الرحمان

لاہور:ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کے حوالے سے جن نقائص کی نشاندہی کی ہے انہیں فوری دور کرنےکی ضروررت ہے، بجٹ خسارے کامعا ملہ حل کرنے کے لیے حکومت نے تاحال کوئی پالیسی نہیں دی ،کرنسی کی ڈی ویلیو معاشی تباہی ہے، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ روپے کی قدر میں استحکام کاہے، آئی ایم ایف میں جانے سے روپے کی قدر میں مزید 10 روپے تک کمی ہوسکتی ہے۔ان خیالات کا ظہار انہوں نے بجٹ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ روپے کی قدر میں مزید کمی سے مہنگائی کا طوفان آئے گا جسے قابو کرنے کے لیے مرکزی بینک کو بنیادی شرح سود میں اضافہ کرنا ہوگا جس سے معاملات مزید خرابی کی طرف جاسکتے ہیں۔پاکستان کو ترقی کرنے کے لیے ایک مستحکم کرنسی کی اشد ضرورت ہے، وینزویلا تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود کرنسی ڈی ویلیو کرنے سے معاشی طور پر برباد ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنانس بل میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے اقدامات نظر نہیں آتے بلکہ چھوٹی گاڑیوں پر انکم ٹیکس کا استثنیٰٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، بجٹ خسارے کامعا ملہ حل کرنے کے لیے حکومت نے تاحال کوئی پالیسی نہیں دی ۔ بجٹ خسارے کو ختم کرنے کے لیے خسارے میں چلنے والے اداروں کو ٹھیک کرنا ہوگا جب تک حکومت اس ضمن میں کوئی ٹھوس پالیسی وضع نہیں کرتی اس وقت تک حکومتی مالیات کا شعبہ بہتر نہیں بنایا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں