سابق وزیر خزانہ 19

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسد عمر کا مناظرے کا چیلنج قبول کرلیا

لاہور:پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وزیر خزانہ اسد عمر کا مناظرے کا چیلنج قبول کرلیا۔وزیر خزانہ اسد عمر نے مفتاح اسماعیل کو ٹی وی ٹاک شو میں آنے اور جوابات دینے کا چیلنج کیاتھا۔سابق وزیر خزانہ نے موجودہ ہم منصب سے سوالات کے جواب مانگ لئے۔ مفتاح اسماعیل کہاکہ کا اسد عمر بتائیں پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں قومی قرض میں کتنا اضافہ ہوا؟ ،کیا قرض میں اضافے کی پاکستان کی تاریخ میں یہ تیز ترین رفتار نہیں ؟ عالمی منڈی میں پٹرول کی یکساں قیمت پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے دور میں کل کتنا ٹیکس لاگو تھا؟کیا برآمدات میں اضافے کی رفتار اتنی ہی تیز ہے جیساکہ گزشتہ سال تھی؟پرانے قرض پرسود کو منہا کرنے کے بعد بھی کیا حکومت اخراجات جاریہ کی ادائیگی کے لئے قرض نہیں لے رہی؟کیا معاشی مینجمنٹ اچھی ہے جبکہ جی ڈی پی گررہا ہے اور افراط زر بڑھ رہا ہے؟کیا گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام کو پیس نہیں رہا ہے؟جس کمپنی پر 25 ہزار قرض تھا، ٹیم کی تبدیلی سے 28 ہزار روپے ہوگیا ہے۔قومی اثاثے بڑھائے اور نہ ہی عوام کو فائدہ دیا، نئی انتظامیہ جواب دے کہ پھر قرض کیوں بڑھا؟پرانے قرض اور اس پر سود کی ادائیگی پر تین ہزار خرچ ہونے کی نئی انتظامیہ دلیل دیتی ہے۔اس پر نئی انتظامیہ کا جواب ہے کہ 700 روپے قرض ادائیگی پر خرچ ہوئے۔اس کا مطلب ہے کہ 2300 روپے اضافی قرض لے کر عوام پر قرض بڑھادیا گیا۔پرانی انتظامیہ کو کرپٹ اور کمپنی مفاد کے خلاف کام کرنے والادکھایا گیا۔نئی انتظامیہ کے آنے کے بعد تو قرض میں کمی اور شئیرہولڈرز کو نفع ملنا چاہئے۔کمپنی کی تاریخ میں سب سے زیادہ تیزی سے قرض اور نقصانات کیوں بڑھ رہا ہے؟ پی ٹی آئی حکومت نے مختصر وقت میں پاکستان کی معیشت کو سست کردیا ہے۔گزشتہ مالی سال کے اختتام پر جون 2018 میں کل قومی قرض 25 ہزار ارب روپے تھا۔جنوری 2019کے آخر تک قومی قرض میں 3000 ارب روپے کا اضافہ ہوچکا ہے انہوں نے ایک فیصد سے بھی کم وقت میں قومی قرض میں 12 فیصد اضافہ کیاہے ،60 ماہ پانچ سال میں ترقی پر بھاری خرچ، دس ہزار میگاواٹ کے پاورپلانٹس لگانے کے باوجود مسلم لیگ (ن)نے قومی خزانے میں 11000ارب کا اضافہ کیااس کے باوجود ہمیں کرپٹ کہاگیا،صاف چلی شفاف چلی کے آنے کے بعد سات ماہ میں 3000ارب کا قومی قرض میں اضافہ ہوگیا،60 ماہ میں یہی رفتار رہی تو قومی قرض میں 26000 ارب روپے کا اضافہ ہوجائے گا۔یہ مقدار گزشتہ آنے والی تمام حکومتوں کے کل حاصل کردہ قرض سے بھی زیادہ ہے۔اکیلی پی ٹی آئی قومی قرض میں اتنا اضافہ کرے گی جتنا ماضی کی تمام حکومتوں نے مل کر بڑھایا۔پی ٹی آئی والے مشرف دور اس سے قبل کی مدت میں لئے گئے قرض کو شمار نہیں کررہے ۔پی ٹی آئی حکومت نے 700 ارب روپے قرض ادا کیا تو باقی 2300ارب روپے کہاں گئے؟۔پی پی پی اور مسلم لیگ(ن)نے اپنے سے سابقہ حکومتوں کے لئے قرض ادا کئے ۔مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے گزشتہ سال سود ادائیگی کی مد میں 1400 ارب روپے ادا کئے ۔ہم نے بجٹ میں اس مالی سال کے لئے 1500ارب روپے کی رقم قرض پر سود کی واپسی کے لئے رکھی تھی۔پی ٹی آئی کو سود بھی زیادہ ادا کرنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے اس کی شرح بڑھا دی ہے۔معاشی سرگرمیوں میں جمود کی وجہ پی ٹی آئی حکومت کا انٹرسٹ ریٹ بڑھانا ہے۔افراط زر کے مقابلے میں اتنی تیزی سے انٹرسٹ ریٹ بڑھانے کی منطق سمجھ سے باہر ہے ۔پی ٹی آئی لیڈرز یہ نہیں مانیں گے کہ پرویز مشرف کے دور میں روپے کی قدر میں کمی کے قومی قرض پر کیااثرات ہوئے تھے۔جب عمران خان برسراقتدار آئے تو اس وقت کیا اثرات تھے؟ لیکن اس وقت ان کو تسلسل سے سروکار نہ تھا۔1250 ارب روپے روپے کی قدر سے ہونے والے اثر کو منہا کردیا جائے تب بھی سات ماہ میں 1050ارب روپے کا خلاہے۔یہ ابھی سال کا پہلا نصف اول ہے، زیادہ تر بل دوسرے نصف میں آتے ہیں۔اسی بناپر باآسانی کہاجاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ دے گی۔مسلم لیگ (ن)کے کسی بھی سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگا۔گزشتہ سال ہمارا خسارہ زیادہ تھا لیکن ہم نے قومی آمدن میں 2000ارب کا اضافہ کیا اور 700 ارب ترقیاتی سکمیوں میں لگائے تھے۔پی ٹی آئی نہ ترقی پر خرچ کررہی ہے اور نہ ہی جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھا سکی ہے۔بجلی کی قیمتوں میں 15اضافے کے باوجود گردشی قرض روزانہ 127 کروڑ بڑھ رہا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے دور میں گردشی قرض میں 7.7 کروڑ روزانہ اضافہ ہورہا تھا۔خیر ہم تو برے تھے ہی لیکن پی ٹی آئی ہم سے 16 گنا زیادہ بدترین کارکردگی دکھارہی ہے۔گردشی قرض کا یومیہ 127 کروڑ بجٹ خسارے کا حصہ نہیں، یہ بوجھ بھی عوام پر لادا جارہا ہے۔پی ٹی آئی حکومت نے گیس کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا کہ دونوں گیس کمپنیاں خسارہ کررہی ہیں۔اختتام جون 2017 کی دونوں گیس کمپنیوں کی آڈٹ اکاو نٹس کے مطابق دونوں کا مشترکہ نفع 16 ارب روپے تھا۔نئے پاکستان میں پھر کیوں اتنی تیزی سے اور اس قدر زیادہ قیمتیں بڑھائی گئیں جو پرانے پاکستان میں ہضم نہیں ہوسکتی تھیں۔پی ٹی آئی گردشی قرض میں 16درجے زیادہ تیزی سے اضافہ کررہی ہے، اگر مسلم لیگ (ن) کے لیڈرز کرپٹ تھے تو پھر پی ٹی آئی کے لیڈرز کو کیا کہا جائے؟ کراچی میں میٹرو بس کا نہ ہونا پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی تین شہروں میں کامیابی سے چلتی میٹروز گورننس کا تعارف ہے تو پشاور میں 100ارب کھڈے میں ڈالنے کو کیا کہیں ؟اللہ کرے پشاور بس میٹرو کھڈوں اور ملکی معیشت کھڈے سے باہر نکل آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں