ای کورٹس سسٹم

سپریم کورٹ میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ای کورٹس سسٹم کا آغاز، پہلے مقدمے کا فیصلہ

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ای کورٹس سسٹم کا آغاز کر دیا گیا۔ پیر کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ای کورٹ مقدمے کی سماعت کیا آغاز کیا ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک بڑا قدم ہے، ای کورٹ سے کم خرچ سے فوری انصاف ممکن ہو سکے گا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دنیا بھر میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں ہی ای کورٹ سسٹم کا پہلی مرتبہ آغاز ہوا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ای کورٹ سے سائلین پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑےگا۔ چیف جسٹس نے آئی ٹی کمیٹی کے ممبران جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مشیر عالم کو خراج تحسین پیش کیا ۔

چیف جسٹس نے نادرا چیئرمین اور ڈی جی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ ای کورٹ کے تحت پہلے مقدمے کے آغاز میں ویڈیو لنک کے ذریعے کراچی سے وکلا نے دلائل کا آغاز کیا ۔بعد ازاں سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی نے چیف جسٹس کو ویڈیو لنک سے مبارکباد دی ۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ پہلے ہی روز ای کورٹس سے سائلین کے پچیس لاکھ روپے بچ گئے،کراچی سے وکلاءاسلام آباد آتے تو فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرتے۔چیف جسٹس نے کہاکہ کراچی سے آنے والے وکلاءاور سائلیں کی ٹرانسپورٹ پر اخراجات آتے۔چیف جسٹس نے کہاکہ سستے اور بروقت انصاف کےلئے وکلاءکا تعاون مطلوب ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ روز سوچتے ہیں انصاف کے سائلین کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ سستا اور بروقت انصاف ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔

سپریم کورٹ میں ای کورٹ کے پہلے مقدمے کا فیصلہ ،عدالت نے قتل کے ملزم نور محمد کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی۔ پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے کہاکہ ملزم نور محمد کے خلاف پولیس اسٹیشن شاداب پور 2014 میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم افراد نے قتل کیا۔وکیل ملزم نے کہاکہ اس کیس کے نامزد ملزمان اس واقعے میں ملوث نہیں،مقامی پولیس نے کیس کی تفتیشی میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ شریک ملزمان غلام حسین اور غلام حیدر پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔عدالت نے درخواست گزار نور محمد کی ضمانت قبل از گرفتاری

اپنا تبصرہ بھیجیں