اسلام آباد ہائیکورٹ

قیدیوں کو حقوق کی فراہمی وفاق کی ذمہ داری ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد (لاہور نامہ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ قیدیوں کو حقوق کی فراہمی وفاق کی ذمہ داری ہے۔ قیدی حکومت کی قید میں ہیں، ذمہ دار حکومت ہے،کیوں نہ قیدیوں کو حکومت کے خلاف کیس فائل کرنے کا کہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئندہ جمعہ کے روز اڈیالہ جیل راولپنڈی کا دورہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید سزائے موت کے بیمار قیدی خادم حسین کی درخواست پر ہفتہ کے روز خصوصی طور سماعت کی۔

دوران سماعت سیکرٹری وزارت انسانی حقوق ، جوائنٹ سیکرٹری وزارت صحت، اڈیالہ جیل کے پولیس افسران اور ڈاکٹرز عدالت میں پیش ہوئے۔ جیل حکام کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ اڈیالہ جیل 1500 قیدیوں کے لئے بنایا گیا تھا تاہم اس وقت جیل میں چار ہزار سے زائد قید ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ 1500 قیدیوں والی جگہ پر چار ہزار قیدیوں کی موجودگی تشویشناک ہے۔

صحت سے متعلق عالمی اور ملکی قوانین پیش کریں۔اڈیالہ جیل کے وارڈز سے نالے گزرتے ہیں۔اڈیالہ جیل کے کوریڈور میں بھی لوگ سوتے ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ جو قیدی بیمار ہیں ان کے حوالہ سے ترجیحی بنیادوں پر میڈیکل بورڈ بنا کر ان کا علاج معالجہ کیا جائے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14دسمبر تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں