حافظ طاہر محمود اشرفی

محاذ آرائی اور دھرنوں کی سیاست سے مسائل کبھی حل ہوئے ہیں نہ ہوں گے،حافظ طاہر محمود اشرفی

لاہور (لاہور نامہ) چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان علماء کونسل کی مرکزی و صوبائی مجلس شوریٰ و عاملہ کا اجلاس 27دسمبر کو فیصل آباد میں طلب کرلیا گیاہے۔ اجلاس میں مرکز اور صوبہ پنجاب کے انتخابات ہوں گے۔ 27دسمبر کو فیصل آباد میں مولانا عبدالحمید وٹو کی یاد میں عظیم الشان کانفرنس ہوگی۔ پاکستان علماء کونسل کی اعتدال کی پالیسی کو پوری دنیا میں ناصرف تسلیم کیا بلکہ اسے سراہا بھی جارہا ہے۔ حکومت کا قادیانیت اور فلسطین کے مسئلہ پر موقف واضح ہے۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، وادی میں بھارتی فوج کے کرفیو کو سو روز گزر چکے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان علماء کونسل فیصل آباد کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر مولانا اسعد زکریا، مولانا اشفاق پتافی، مولاناا سید الرحمٰن ، علامہ طاہر الحسن، مولانا امین الحق اشرفی ، مولانا محمد شکیل،مولانا محمد اشرف کشمیری،مولانا محمد احمد وفا،مولانا اظہار الحق خالد، قاری محمد عمر شاہد،حافظ محمد طاہر گجر،مولانا طاہرقاسمی ،قاری محمد زکریا، عبدالرحمن و دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ پاکستان ایک مشکل دور سے نکل کر سیاسی و معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، معاشی اشارے بھی بہتری کی جانب جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں ایسی صورتحال میں ملک کو سیاسی عدم استحکام کی جانب بڑھنے سے بچانا ہی دانشمندی ہوگی جس کا مظاہرہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں جانب سے ہونا ضروری ہے۔ سیاسی جھگڑوں کے فیصلے آئینی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ہونے چاہئیں، محاذ آرائی اور دھرنوں کی سیاست سے مسائل کبھی حل ہوئے ہیں نہ ہوں گے۔ پاکستان علماء کونسل عمران خان کے دھرنے کی بھی مخالف تھی اور آج موجودہ اپوزیشن کے دھرنے کے بھی خلاف ہے۔ وزیر اعظم کا استعفیٰ عمران خان کا دھرنا لے سکا اور نہ ہی جے یو آئی لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال دن بدن گمبھیر رخ اختیار کر رہی ہے وادی میں بھارتی کرفیو کو 100دن ہوچکے ہیں ، کشمیریوں کی کوئی خیر خبر نہیں، اس بات کا خدشہ ہے کہ کوئی بڑا انسانی المیہ جنم نہ لے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر حکومت پاکستان کو ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہونگے، اقوام عالم اور بین الاقوامی فورمز کو بھی آگے بڑھ کر مداخلت کرنا ہوگی کیونکہ یہ بہت بڑا انسانی مسئلہ ہے۔ بھارت کی مودی سرکار جبر و استبداد کے ذریعے کشمیریوں کی ا?واز کو دبانا چاہتی ہے جو کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل نے ہمیشہ اعتدال کی پالیسی اپنائی اور تشدد و انتہا پسندی کی نفی کی، ہمارے اس موقف کو پوری دنیا میں ناصرف سراہا جارہا ہے بلکہ تسلیم بھی کیا گیا ہے۔ ہم نے اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کی سامنے پیش کی اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کماحقہ کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی قادیانیت اور کشمیر کے مسئلہ پر واضح پالیسی ہے، جھوٹے پروپیگنڈا کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے والے اسلام کی خدمت کر رہے ہیں نہ پاکستان کی۔ اس ملک میں عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کو کوئی خطرہ نہیں، کوئی طاقت انہیں چھیڑنے کی جرات نہیں کرسکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں