محبت زندہ 106

محبت زندہ رکھتی ہے

ایک بھنگی کسی پنڈت گھرانے میں بھنگی یا جمعدار کام کرتا تھا‘ وہ پورے گھر کے باتھ رومز صاف کرتا تھا‘ فرشوں پر ٹاکی لگاتا تھا اور لان میں جھاڑوں پھیرتا تھا اور آخر میں پورچ میں نیچے بیٹھ جاتا تھا۔ اپنی پوٹلی کھولتا تھا اور گھر سے لائی ہوئی روٹی کھانا شروع کر دیتا تھا۔
ایک دن وہ اپنی روٹی کھا رہا تھا کہ پنڈتوں کا چھوٹا بیٹا بھنگی کے پاس آیا ‘ اس سے روٹی کا لقمہ مانگا اوراس کے ساتھ بیٹھ کر کھانے لگا۔بچے کی ماں نے یہ منظر دیکھا تو وہ تڑپ کر اٹھی‘اس نے بیٹے کے ہاتھ سے روٹی کا ٹکڑا چھینا‘ یہ ٹکڑا نیچے فرش پر پھینکا اور بچے کو مارنا شروع کردیا۔ بچے
نےماں سے اپنا جرم پوچھا تو ماں نے چلا کر کہا ”کم بخت تم نے بھنگی کی روٹی کیوں کھائی “ بچے نے پوچھا ”ماں کیا بھنگی کی روٹی کھانے سے میں بھنگی ہو جاﺅں گا“ ماں نے غصے سے جواب دیا ”اور کیا تم بھنگی کی روٹی کھانے کے بعد بھنگی ہو چکے ہو“ بچے نے قہقہہ لگایا اور ماں سے کہا ”ماں اگر روٹی کا ٹکڑا کھانے سے لوگوں کی ذاتیں تبدیل ہو جاتی ہیں تو یہ بھنگی دس سال سے ہماری روٹی کھا رہا ہے‘ یہ دس سال تک پنڈتوں کی روٹی کھانے کے بعد بھنگی کیوں ہے‘ یہ پنڈت کیوں نہیں بن سکا“
آپ یقین کیجیے ہمارے معاشرے میں آج بھی نفرت کےکٸی ایسے خود ساختہ معیار ہیں جن کی بدولت ہم بے سکون زندگی گزار رہے ہیں ۔ ذات پات رنگ نسل زبان علاقہ آج بھی یہ چیزیں ہمارے درمیان نفرت پیدا کر رہی ہیں ۔ خود کو برتر اور دوسروں کو حقیر ثابت کرنے میں ہم اپنے کتنے ہی قیمتی لمحات ضاٸع کر دیتے ہیں جبکہ ان لمحات میں ہم کامیابی کی کٸی منازل طے کر سکتے ہیں ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نفرت بلا دلیل مانتے ہیں اور محبت ثابت کرنے میں ہزاروں دلیلیں بھی کم پڑ جاتی ہیں ۔ زندگی اکیلے پن کا نام نہیں جب یہ حقیقت یقینی ہے تو پھر اپنے اردگردموجود لوگوں میں محبت بانٹیے اور زندگی کو خوبصورت بناٸیے ۔آپ کے اردگرد لوگوں کا ہجوم آپ کو نفع نہیں دے گا لیکن اس بڑے ہجوم میں چار پانچ لوگ ایسے ضرور جمع کیجیے جن سے آپ کی محبت غیر مشروط اور لامحدود ہو ۔ہمارے ہاں محبت کٸی شرطوں پر مشتمل ہوتی ہے جیسے کہ ہم دوستی ہی اس لیے کرتے ہیں کہ کوٸی مصیبت میں ہمارے کام آۓ اگر نہ آیا تو دوست نہیں ۔ اس معیار کو بدلیں اور سوچیں کہ ہم دوسروں کے کیسے کیسے کام آ سکتے ہیں ۔ ہم بے سکون کب ہوتے ہیں یا لفظ محبت سے بھی نفرت کب ہوتی ہے دراصل جب ہم اپنی تمام محبت کو ایک پنجرے میں بند کر دیتے ہیں اس پنجرے کا نام ذات ۔ رنگ ۔نسل ۔قبیلہ۔ مذہب ۔ علاقہ کچھ بھی ہو سکتا ہے خدارا اس سے نکلیے ہر انسان سے بلا تفریق محبت کیجیے ہر انسان سے محبت کیجیے جب آپ اس معیار کو تھام لیں گے تو معاشرے میں احترام آدمیت خود بخود بڑھے گا ادب عام ہو گا حقوق غصب نہیں ہو نگے۔
۔ زندگی کا حسن اس محبت میں ہے ایک دفعہ خود کو نفرتوں کے پنجرے سے قید کر کے دیکھیے آپ کو دنیا کا ہر فرد ہزاروں خوبیوں کا مالک نظر آۓ گا ہر فرد قابل احترام نظر آۓ گا ۔محبت سے جینے والے جلدی نہیں مرتے ۔ ان کے لفظ ان کا اخلاص انہیں زندہ رکھتا ہیں ۔محبت بانٹنے سے بڑھتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں