مسئلہ کشمیر

مسئلہ کشمیر سلگتا ہوا نہیں رہ سکتا اسے حل کر نا ہی ہوگا ، وزیر اعظم پاکستان

اسلام آباد/لندن(این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر سلگتا ہوا نہیں رہ سکتا اسے حل کر نا ہی ہوگا ،اگر مودی پھر سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو امن مذاکرات بحال ہونے کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے،جوہری طورپرمسلح ہمسائے اپنے اختلافات کوصرف مذاکرات کے ذریعے حل کرسکتے ہیں،بھارتی رہنماﺅں کے الزامات کے جواب میں ہم بھی الزامات عائد کرینگے تو کشیدگی بڑھے گی ،دونوں ممالک کی اولین ترجیح غربت کا خاتمہ ہونا چاہیے ،بھارت پاکستان پردوبارہ حملہ کرتا تو جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ، جیش محمد جیسی تنظیموں کوپہلے ہی غیر مسلح کررہے ہیں ، ان کے مدارس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے ،ہم جنگجو گروہوں کے خلاف کارروائی کا عزم رکھتے ہیں ،آسیہ بی بی محفوظ ہیںہفتوں میں پاکستان چھوڑکرچلی جائیں گی۔

بدھ کو غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان سے سوال کیا گیاکہ آسیہ بی بی کے ساتھ کیا ہوا، وہ ابھی تک پاکستان چھوڑ کر کیوں نہیں گئیں؟عمران خان نے کہا کہ آپ دیکھیں گے کہ آسیہ بی بی بہت جلد پاکستان چھوڑ دیں گی۔کیا ہم اس حوالے سے دنوں یا ہفتوں کی بات کر رہے ہیں؟ جواب میں پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ میرے خیال سے ہفتوں میں،ہم ہفتوں کی بات کر رہے ہیں۔سوال کیا گیاکہ کیا یہ آپ کا فیصلہ ہے؟ جواب میں عمران خان نے کہا کہ اس حوالے سے تھوڑی پیچیدگی پائی جاتی ہے اور میں میڈیا سے اس بارے میں بات نہیں کر سکتا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آسیہ بی بی محفوظ ہیں اور وہ ہفتوں کے اندر اندر پاکستان چھوڑ کر چلی جائیں گی۔ایک دوسرے انٹرویو میں غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہاکہ اگر بھارت کے انتخابات میں مودی پھر سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو امن مذاکرات بحال ہونے کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوںنے کہاکہ اگر کانگرس انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے تو شاید وہ پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں تھوڑی جھجک کا شکار ہو کیونکہ انھیں دائیں بازو کی جماعتوں کے ردِ عمل کا ڈر ہوگا تاہم اگر بی جے پی جیت جاتی ہے تو جو خود ایک دائیں بازو کی جماعت ہے تو شاید کشمیر کے معاملے پر کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔بھارت میں جاری صورتحال کے بارے میں وزیر اعظم نے کہاکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایسی صورتحال دیکھوں گا جو انڈیا میں جاری ہے جہاں مسلمانوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ بھارت کے مسلمان کبھی وہاں بہت خوش تھے تاہم کئی برسوں سے وہ ہندو انتہا پسند قوم پرستوں کے باعث کافی پریشان ہیں۔انہوںنے کہاکہ نریندر مودی بھی اسرائیلی وزیر اعظم کی طرح خوف اور قوم پرست جذبات کی بنیاد پر انتخابات لڑ رہے ہیں،مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ وہ اس موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟عمران خان نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو گا اور یہ مسئلہ ابلتا ہوا نہیں رہ سکتا ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ متنازع علاقے کشمیر میں امن خطے کے لیے ’بہت زبردست ہو گا۔عمران خان نے کہا کہ جوہری طور پر مسلح ہمسائے اپنے اختلافات کو صرف مذاکرات کے ذریعے حل کر سکتے ہیں، پاکستانی وزیر اعظم کے مطابق پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہم غربت کو کم کرنے کےلئے کیا کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ غربت کو کم کرنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک اختلاف ہے جو کہ کشمیر ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے کہاکہ دونوں ممالک کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے کیونکہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل ہے، اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا جائے گا اور ہم ان پر الزام عائد کریں گے تو کشیدگی بڑھے گی جس طرح ماضی میں بڑھتی تھی۔ لہٰذا اگر ہم کشمیر کو حل کر سکتے ہیں تو برصغیر میں امن کے زبردست فوائد ہیں۔عمران خان نے دونوں ممالک کے درمیان تصادم کے خطرات کے بارے میں بھی بات کی۔جب آپ جواب دیتے ہیں تو کوئی بھی اس بات کی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ وہ کہاں تک جائےگا۔ اگر انڈیا پاکستان پر دوبارہ حملہ کرتا تو پاکستان کے پاس اس کا جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا چنانچہ اس صورتِ حال میں دو جوہری مسلح ممالک نے، میں نے محسوس کیا کہ یہ بہت غیر ذمہ دار تھا۔

ان سے پوچھا گیا اگر انڈیا کی حکومت کہے کہ آپ ابھی تک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مناسب کارروائی نہیں کر رہے اور جیشِ محمد کا رہنما ابھی بھی آزاد گھوم رہا ہے آپ اسے گرفتار کیوں نہیں کرتے؟عمران خان نے کہا کہ ہم پہلے ہی ان تنظیموں کو غیر مسلح کر رہے ہیں، اس میں جیش محمد بھی شامل ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے ان کے مدارس کا کنٹرول سنبھا ل لیا ہے، ان کی تنظیمیں بھاگ گئی ہیں، یہ جنگجو گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔سوال کیا گیاکہ کیا آپ ان کے خلاف کارروائی کا عزم رکھتے ہیں؟عمران خان نے کہا کہ ہم ان کے خلاف کارروائی کا عزم رکھتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل کےلئے ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس حوالے سے بیرونی دباو¿ نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مفادات میں ہے کہ ہمارے یہاں کوئی بھی عسکریت پسند گروہ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں