مسجد وزیر خان


دہلی دروازے کے اندر داخل ہوتے چند قدم آگے چلیں تو چوک وزیر خان آجاتا ہے جہاں مسجد وزیر خان عہد مغلیہ کا شاندار تعمیراتی شاہکار آنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے۔ مسجد وزیر خان کی ڈیوڑھی کی مشرقی جانب سید صوفؒ کا مزار ہے جبکہ مسجد کے صحن میں محمد اسحاق گازرونیؒ محو خواب ہیں۔

مسجد وزیر خان لاہور کی قدیم عمارات میں ممتاز اور منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اپنی تعمیراتی عظمت ,پائیداری، اور نقش و نگار کی بدولت ماہرین فن تعمیرات اس مسجد کو خاص درجہ دیتے ہیں۔
مسجد وزیر خان کا صدر اپنی حیثیت میں ایک مکمل اور عالی شان فن تعمیر کا نمونہ ہے۔ داخلی دروازے کی کل چوڑائی 21 فٹ ہے جس کے دونوں اطراف چار چار فٹ دائیں بائیں، چبوترہ ہیں اور ان کے بیچ 13 فٹ چوڑی سیڑھیاں ہیں جن سے داخلی دروازے کے مرکزی حصے میں داخل ہوتے ہیں۔ ڈیوڑھی کے شمال اور جنوب میں تیرہ فٹ چوڑا راستہ ہے۔ ڈیوڑھی سے آگے بڑھیں تو مسجد کا وسیع صحن شروع ہوجاتا ہے جس کا فرش کھڑے رخ اینٹوں سے بنا ہے ۔ مسجد کے صحن کے وسط میں واقع وضو کے تالاب کے متوازی شمال اور جنوب کی جانب بھی داخلی دروازے بنائے گئے ہیں۔ صحن کے چاروں کونوں پر چار مینار ہیں جن کے اندر سیڑھیاں اوپر تک چلی جاتی ہیں۔

مسجد کے صحن کی مغربی جانب ایوان کی عمارت ہے۔ ایوان کے درمیانی حصے کا دروازا 24 فٹ چوڑا ہے اور 36 فٹ اونچا ہے جہاں یہ نصف گنبد کی صورت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ صحن کے درمیاں میں کھڑے ہوں تو ہمیں چاروں اطراف دالان کے علاوہ داخلی دروازوں کی عمارات کا خوبصورت اور مزین منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔
مسجد وزیر خان کی اندرونی اور بیرونی دیواروں اور گنبدوں پر خطاطی کے بکثرت نمونے دیکھنے کو مل ہیں۔ زیادہ تر خطاطی آبی رنگوں کی مدد سے کی گئی ہے تاہم کاشی کاری میں بھی خطاطی کے نمونے موجود ہیں۔

جامع مسجد کے ایوان میں منبر کی موجودگی لازم ہے مگر برطانوی عہد حکومت میں مسجد وزیر خان میں کوئی منبر نہیں تھا۔ اپریل 1899ء میں جب لارڈ کرزن وائسرائے ہند نے مسجد کا دورہ کیا تو اس کی تزئین و آرائش اور تعمیراتی معیارات سے مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس اعتراف کے طور پر اس نے اخروٹ کی اعلیٰ لکڑی کا خوبصورت منبر میو سکول آف آرٹ کے ماہر کاری گروں سے بنوایا اور تحفتاً مسجد کو پیش کیا۔ ایک سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر منبت کاری کا یہ اعلیٰ نمونہ آج بھی مسجد کے ایوان میں موجود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں