79

مقبرہ قطب الدین ایبک


انارکلی بازار سے ہسپتال روڈ کی جانب جانے والی سڑک کو ایبک روڈ کہتے ہیں۔ اگرچہ یہ سڑک چھوٹی سی ہے لیکن یہاں پر ایک بہت بڑا بادشاہ آسودہ خاک ہے۔ یہ ہندوستان میں پہلا باقاعدہ مسلمان بادشاہ قطب الدین ایبک ہے۔ دہلی کا معروف قطب مینار اسی ذی شان بادشاہ کی یادگار ہے۔ محل میں ایبک، چوگان (پولو) کھیلا کرتا تھا کیوں کہ وہ اس کھیل کا بہت شوقین تھا۔ ایک مرتبہ وہ پولو کھیل رہا تھا کہ گھوڑے سے گر پڑا اور یہی واقعہ اس کی موت کا سبب بنا۔


سلطان قطب الدین ایبک نے 1210ء بمطابق 607ھ میں وفات پائی اور اسے لاہور ہی میں دفن کردیا گیا ۔ 1215ء میں سلطان شمس الدین التمش لاہور آیا تو اس نے سلطان قطب الدین ایبک کا شاندار مقبرہ تعمیر کرنے کا حکم صادر کیا، چناں چہ اس عظیم بادشاہ کی شایان شان مقبرے کی تعمیر کی گئی۔ تاہم یہ امتداد زمانہ کی نذر ہوگیا۔ دور مغلیہ میں شہر کی توسیع ہوگئی تو مقبرہ اور باغ اجڑنے لگا۔ مقبرے سے متصل محلے کا نام محلہ قطب غوری ہی رہا۔ انگریزی عہد میں مقبرے کے گردونواح میں آبادی ہونے لگی اور بالاخر قبر پر بھی مکان تعمیر ہوگیا۔ اس مکان میں ایک ہندووکیل رہائش پذیر تھا تاہم انگریز سرکار نے ایک مہربانی یہ کی کہ قبر کی مرمت کروادی اور میونسپل کمیٹی نے بازار اور گلی کانام ایبک سٹریٹ رکھ کر اس کا نام مٹنے سے بچا لیا، ورنہ شاید لوگ اس نام اور قبر کے محل وقوع سے ہی ناآشنا رہتے اور یہ گوہر نایاب وقت کی خاک میں گم ہوجاتا۔ مقبرے کے آثار دیکھنے کے لیے کھدائی کی گئی لیکن کوئی واضح آثار دریافت نہ ہوسکے۔ جب یہ بات طے ہوگئی کہ قبر اس جگہ پر موجود تھی تو اس کے بعد مقبرے کی تعمیر کے سلسلہ میں اقدامات کیے.


تعمیر کے کام کا آغاز 1968ء میں ہوا اور جولائی 1979ء میں اسے مکمل کرلیا گیا ۔ مقبرے کی تعمیر سنگ مرمر اور پیلے پتھر سے کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں کوشش کی گئی ہے کہ اسے اسی انداز میں تعمیر کیا جائے جو انداز تعمیر اس دور میں مسلمانوں سے مخصوص تھا۔ مقبرے کا گنبد بھی منفرد انداز کا ہے۔ گنبد کے وسط میں فانوس لگا ہواہے۔ مقبرہ چوکور ہے اور چاروں طرف سنگ مرمر کی جالیاں ہیں۔ فرش اوردیواریں بھی سنگ مرمر کی ہیں جب کہ چھت پر پلستر کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں