اینٹی کرپشن کا 42

نیب اور اینٹی کرپشن کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ،کرپشن کیسز میں فرانزک لیب سے بھی مدد لینے کی کوشش کر رہے ہیں

لاہور (این این آئی )ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اعجاز حسین شاہ نے کہا ہے کہ نیب اور اینٹی کرپشن کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ہے ،کرپشن کے کیسز میں فرانزک لیب سے بھی مدد لینے کی کوشش کر رہے ہیں ،وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات بہت مشکل کام ہے اوراس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس مقصد کے لیے سلیکشن کرلی گئی ہے اورہر ریجن میں تین تین بڑے کیس حل کر رہے ہیں ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی اینٹی کرپشن اعجاز حسین شاہ نے کہا کہ محکمے کے اپنے کچھ مسائل ہیں جن کو مدنظر رکھ کر پالیسی بنا رہے ہیں جس کے جلد نتائج سامنے آئیں گے، ہماری بھرپور کوشش ہے کہ زیر التواءاورپرانے کیسز کو جلد از جلد ختم کیا جا سکے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نیب اور اینٹی کرپشن کا موازانہ کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ میگا کرپشن کیسز نیب کے پاس ہیں، بڑے افسران کے کیسز بھی نیب کی طرف جارہے ہیں جبکہ اینٹی کرپشن صوبائی سطح پر زیادہ کام کررہی ہے۔

ہم کرپشن کا مکمل صفایا کرنا چاہتے ہیں اس لیے کرپشن کے کیسز فرانزک لیب سے بھی مدد لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق ڈی جی حسین اصغر نے سورس رپورٹ کے ذریعے کام کیا ہم اس پر بھی کام کررہے ہیں کیونکہ شفاف انوسٹی گیشن کا ہونا بے حد ضروری ہے، لوگوں کی شکایت تھی کہ ان کو سنا نہیں جاتا ہم اس شکایت کو بھی دور کر رہے ہیں ، کسی بھی ملز م کوسننے کے بعد کاروائی ہو گی اورکسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے،ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں میں آگاہی پیدا کریں تاکہ وہ کرپشن کرنے سے پہلے سے سوچیں ۔ ڈی جی اینٹی کرپشن نے کہا کہ 2003 کی فائلیں بھی زیر التواءہیں ہم ان کو دیکھ رہے ہیں ،وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کرنا بہت مشکل کام ہے ہمیں بھی اس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس مقصد کے لیے سلیکشن کرلی گئی ہے اورہر ریجن میں تین ،تین بڑے کیس حل کر رہے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم سٹیزن پورٹل کے بارے میں انکوائری میرے پاس ہے جس کی رپورٹ ایک ہفتے میں تیار کر لی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں