فلاپ حکومت

رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ کی جانب سے پنجاب حکومت کی کار کردگی پر کری تنقید

لاہور( لاہور نامہ ) مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے پنجاب حکومت کی کار کر دگی پر ”فلاپ حکومت “کے نام سے وائٹ پیپرجاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرینی اور نالائق اعلیٰ کی پنجاب حکومت صوبے کےلئے کسی عذاب سے کم نہیں ‘پنجاب کے بجٹ میں 86ارب روپے کے نئے ٹیکس عوام پر بمباری ہے ‘ناکام معاشی حکومتی پالیسوں کی وجہ سے صرف پنجاب میں ساڑھے5لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوئے ہیں ‘ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبا زشر یف سمیت مسلم لیگ (ن) کے دیگر قائدین کے خلاف انتقامی کاروائیوں کےلئے پنجاب حکومت اور نیب بھی ایک پیج پرہیں ‘تین بار ملک کے وزیر اعظم رہنے والے میاں نوازشر یف کو آج بھی جیل میں طبی سہولتیں نہیں دی جا رہیں‘پنجاب میں تحر ےیک انصاف کے دورحکومت میں اب تک 1لاکھ53ہزار جرائم کے واقعات اور1494سے زائد افراد قتل ہوئے ‘بچوں کے ساتھ زیادتی کے ہر روز 4سے6واقعات ہورہے ہیں ‘کفایت شعاری کا دعویٰ کر نےوالی حکومت کے وزیر اعلی نے گزشتہ بجٹ میں رکھے جانےوالے فنڈز کے مقابلے میں18کروڑ سے زائد اضافی خرچ کر ڈالے ‘حکومت نے رواں سال صحت کے بجٹ میں5ارب روپے کی کمی کر دی ‘کر پشن کے خاتمے کا دعویٰ کر نےوالی پنجاب کے اپنے2وزیر کر پشن میں نیب کے ہاتھوں گر فتار ہوئے ‘میٹرو کے کرایوں میں10فیصد اضافہ بھی حکومت کے عوام دشمن اقدام کا ثبوت ہے ‘سی ٹی ڈی کے ہاتھوں قتل ہونےوالی بے گناہ فیملی آج بھی انصاف کےلئے ترس رہی ہے ‘ساہیوال ہسپتال میں6بچوں کی ہلاکت بھی محکمہ صحت کی ناکامی کی بدتر ین مثال ہے ‘وزیر اعلی اور انکے 40تر جمان اصل میں ”علی بابا اور40چور “ہیں ‘پنجاب میں تحر یک انصاف کی حکومت میں 102سے زائد افراد نے غر بت اور مہنگائی بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ کر خود کر لی ‘سےکرٹریز اور دیگر افسران کے تبادلوں کا سونامی آیا ہوا ہے’بلدیاتی اداروں کا خاتمہ بھی حکومت کی عوام دشمنی ہے ۔

بدھ کے روز مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے اپنے جاری کردہ حقائق نامہ میں مزید کہا کہ 3آئی جی ایزکے تبادلے کے باوجود لاہور سمےت پنجاب بھر میں امن وامان کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق آج پنجاب میں قتل ‘ڈکیتی ‘اغواءبرائے تاوان دیگر جرائم میں ملوث اشتہاریوں کی تعداد70ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں صرف گوجرانوالہ میں اشتہاری ملزمان کی تعداد 3000 اور فیصل آباد 2000 سے زائد لاہورپولیس کو مطلوب اشتہاری ملزمان کی تعداد 8 ہزار سے زائد ہے تحر ےک انصاف کی حکومت کے دور مےںخواتےن سے گےنگ رےپ کے53اور اغواءکے4ہزارسے زائد واقعات خود پولیس نے درج کیے ہیں حقیقت میں انکی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے لاہور جیسے شہر میں پولیو ورکرز بھی حملے بھی پولیس کی بدتر ین ناکامی ہے داتادربار کے باہر ہونےوالی دہشت گردی نے بھی حکومت کی ناکامیوں کا پول کھول دیا صرف رواں سال کے دوران ابتک 503کم عمر بچوں، بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات ہوئے ایک بچہ اور 3بچیوں کوزیادتی کر نےوالوں نے قتل کر دیا اور سب سے زیادہ بچوں کےساتھ زیادتی کے 51واقعات بہاﺅلپور میں ہوئے پولیس کی جانب سے بے گناہوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے درجنوں واقعات ہوئے لاہور کے علاقہ سمن آباد میں پولےس اہلکار خود2افراد کے اغواءمیں ملوث نکلے لاہور میں سیف سٹی اتھارٹی پر16ارب روپے کے اخر اجات کے باوجود جرائم میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے حنا پرویز بٹ نے اپنے وائٹ پیپر میں مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں بھی حکومت کی بدتر ین کارکردگی رہی ہے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ حکومت نے ایمر جنسی میں مفت طبی سہولت بھی ختم کر دی پنجاب ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت ہیپاٹائٹس بی اور سی کی تشخیص کیلئے پی سی آر ٹیسٹ کی سہولت صوبہ بھر کیلئے بند ہوگئی ہسپتالوں میں ایک ایک بیڈ پر2/3مر یض پڑے ہیں پولیو کے مر یض بھی موجودہ حکومت کے دور میں سامنے آئے ہیں رکن پنجاب اسمبلی حناپرویز بٹ نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں صرف لاہورمیں حکومت نے9کالجز کے بجٹ میں 22کروڑ45لاکھ روپے سے زائد کا کٹ لگا دیا پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تحت گریڈ 17 اور 18 میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہونیوالے اساتذہ کا مستقبل پر لگا ہوا ہے کنٹریکٹ میں توسیع نہ ہونے کی بنا پر 20 جون کے بعد اساتذہ ملازمتوں سے فارغ ہوجائیں گے۔رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے اپنے وائٹ پیپر میں مزید کہا کہ کفایت شعاری کا پنجاب حکومت کا ڈرامہ بھی مکمل طور پر فلاپ ہوچکا ہے وزراءکے دفاتر کی تزہین وآرائش کےلئے بجٹ2019/20میں50ملین روپے کے فنڈز اور وزیر اعلی پنجاب کے آفس سمیت دیگر دفاتر کے اخر اجات میں مزید اضافہ خزانہ پر بوجھ اور غر یب عوام پر ظلم کی انتہا ہے وزیر اعلی پنجاب کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کا حکومتی دعوی بے نقاب ہو چکا ہے کےونکہ پنجاب حکومت نے نئے بجٹ میں وزیر اعلی کے صوابدیدی فنڈز ایک کروڑ 33 لاکھ مختص کردیئے۔

حنا پرویز بٹ نے کہا کہ پولیس اور دیگر اداروں سے سیاسی مداخلت ختم کر نے کا دعوی کرنےوالی حکومت نے خاتون اول اور انکی سہیلی کی فر مائش پر پولیس سمیت کئی محکموں کے افسران کی چھٹی کروادی ڈی پی او پاکپتن اور ڈی سی گوجرنوالہ کے ساتھ حکومتی رویہ کی مثالیں آج بھی پنجاب میں موجود ہیں پنجاب میں تقر ریاں تبادلے میرٹ کی بجائے سفارش پر ہورہے ہیں پنجاب میں پولیس حکومت اور نیب ملکر مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں