کپتانی

ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہوں، کپتانی نہیں چھوڑوں گا، سرفراز احمد

کراچی(لاھور نامہ) کرکٹ ورلڈ کپ 2019 سے باہر ہونے کے بعد کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہوں اور میں کپتانی نہیں چھوڑوں گا۔کپتان سرفراز احمد نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے رن ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں نہ جاسکے لیکن ٹیم کی اتنی بری پوزیشن نہیں، 11 پوائنٹس کے ساتھ واپس آئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جو ٹیم بنی تھی میری مشاورت سے بنی ٹیم مینجمنٹ کوشش کرتی ہے کہ بیسٹ الیون ہی میدان میں اتارے اور ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔کپتان سرفراز احمد نے اپنی پرفارمنس کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے بیٹنگ کے بارے میں نہیں سوچا ٹیم کو سوچا تھا حارث سہیل اچھی فارم میں ہیں اس وجہ سے میں نیچے کھیل رہا تھا۔ورلڈ کپ میں فاسٹ بولر حسنین کو موقع نہ دینے پر کپتان کا کہنا تھا کہ شاہین شاہ آفریدی فارم میں تھے جس کی وجہ سے حسنین کو موقع نہ مل سکا۔پریس کانفرنس میں کپتان سرفراز احمد نے ٹورنامنٹ کے ناکام میچز پر اظہار افسوس بھی کیا اور کہا کہ آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف میچ میں ہم اچھا نہیں کھیل سکے، بدقسمتی سے سری لنکا کے خلاف میچ بارش کی نذر ہوگیا۔

اس دوران کپتان سرفراز احمد نے کھلاڑیوں کو داد بھی دی اور کہا کہ انگلینڈ کے خلاف اور آخری چار میچز میں ٹیم نے زبردست کم بیک کیا۔کپتانی چھوڑنے سے متعلق سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ میں کپتانی نہیں چھوڑوں گا مجھے پی سی بی نے کپتان بنایا تھا وہ ہٹائیں یا برقرار رکھیں ان کا فیصلہ ہوگا۔کپتانی کے حوالے سے میرے فیصلے کی اہمیت نہیں تاہم اس حوالے سے فیصلہ پی سی بی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف اچھا نہ کھیلے اور شکست پر افسوس ہوا، بھارت کے میچ کے بعد بہت سخت صورتحال تھی تاہم پورے ٹورنامنٹ میں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی پوری سپورٹ رہی۔سرفراز احمد نے کہا کہ پہلے پانچ میچز میں کارکردگی اچھی نہ رہی تاہم آخری 4 میچز میں کارکردگی اچھی تھی، ٹیم میں گروپ بندی کی بات درست نہیں، اپنے لڑکوں سے کارکردگی پر بات کی، بلا جواز تنقید درست نہیں، جب برا کھیلتے ہیں تو تنقید ہی ہوتی ہے۔کپتان قومی ٹیم نے کہا کہ اپنے نمبر پر بیٹنگ کروں تو اچھی پرفارمنس دیتا ہوں، اپنی ٹیم پر اعتماد تھا، بطور ٹیم ہم نے فائٹ کی۔ شعیب ملک کو آخری میچ میں موقع دینے کی خواہش دی تھی مگر ایسا نہ ہو سکا۔سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اہلیت کی بنیاد پر کھلاڑی ٹیم میں جگہ بنائیں گے، ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے بورڈ فیصلے کررہا ہے، 4 روزہ کرکٹ کو تقویت دینا ہوگی جب کہ عابد علی، آصف علی، احمد شہزاد اور عمر اکمل کی ٹیم میں جگہ بن سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں