اپوزیشن رکن

وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کیلئے کسی اپوزیشن رکن کو اسمبلی سے استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں

لاہور(آئی این پی) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کیلئے کسی اپوزیشن رکن کو اسمبلی سے استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپوزیشن اراکین کے اپنی پارٹی کی پالیسوں سے اختلاف کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے ملنے میں کوئی قدغن نہیں۔(ن) لیگ میں فاروڈ بلاک کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ (ن) لیگ خود جانتی ہے کتنے اراکین اسمبلی انکی پالیسوں سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ ملک میں مہنگائی اور دیگر مسائل ماضی کی تیس چالیس سالہ حکومتوں کا بوج بویا ہوا ہے جو ہم کاٹ رہے ہیں ۔پاکستان اورافغانستان کے درمیان میچ میں بلوچستان کے حوالے سے لہرائے جانے والے بینرز پر برطانوی اراکین پارلیمنٹ سے بات کروں گا۔ملک میں معاشی ترقی میں گوجر نوالہ کا اہم کردار ہے وہاں اکنامک زون کے قیام کے حوالے سے عمران خان سے بات کروں گا۔ وہ اتوار کے روز ایکسپو سینٹر لاہور میں گوجر نوالہ ایکسپو 2019-05 کے دورے کے موقع پر میڈیاسے گفتگو کررہے تھے۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے جمہورت کا حسن ہے اور اگر ن لیگ کے اراکین اسمبلی اپنی پارٹی کی قیادت کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران کی پالیسیاں ملک کو بحرنوں سے نکال کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہیں تو ن لیگ کے اراکین اسمبلی کی عمران خا ن سے ملاقات میں کیا حرج ہے؟جب ملک میں مسائل ہوں تو یقینی طور پر عوام میں مایوسی آتی ہے لیکن اس کے باوجودپاکستانی عوام آج بھی اس بات پر مکمل یقین رکھتی ہے اور عوام اپوزیشن کیساتھ ملکر احتجاج کر نے یا سڑکوں پر آنے کیلئے تیار نہیں کیونکہ عوام جانتے ہیں وزیراعظم عمران خاں ہی اس ملک کو بحرانوں سے نجات دلائیں گے اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری محمد سرور نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی رکن اسمبلی استعفے دیئے بغیر کسی دوسری جماعت میں شامل ہوتا ہے تو آئین کے تحت اس کی نااہلی بنتی ہے لیکن کسی سے ملاقات کرنے میں آئین اور قانون میں کوئی پابندی نہیں ،ن لیگ میں فاوردڈ بلاک کے حوالے سے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا انکے لوگوں کا سب پتہ ہے کہ کون کون انکی پارٹی قیادت کی پالیسوں کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستا ن کے درمیان میچ کے موقع پر ہونے والی بدنظمی اور پاکستانی شائقین کو تشدد کا نشانہ بنانا انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے جبکہ بلوچستان کے حوالے سے بینرز لہراناسفارتی اور اخلاقی اداب کے منافی ہے جسکے خلاف ہم احتجاج کر یں گے اس معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھائیں گے اور میں خود برطانوی اراکین پارلیمنٹ سے بات کروں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں