وزیر مملکت حماد اظہر نے تجارتی خسارے میں 5فیصد کمی کادعویٰ کردیا

اسلام آباد:وزیرمملکت حماد اظہر نے تجاری خسارے میں 5 فیصد کمی کا دعویٰ کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) پر الزام لگایا ہے کہ وہ غلط اعداد وشمار پیش کرکے انتشار پھیلانے سے گریزکریں، ملکی اور غیر ملکی معاشی ماہرین متفق ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے ملکی معیشت کو شدید بحران پر لا کھڑا کیا تاہم تحریک انصاف نے معیشت کو سہارا دینے کے لیے اصلاحاتی اقدامات اٹھائے،عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے (ن) لیگ دور میں مالیاتی خسارے کو خطرناک قرار دیا تھا،پی ٹی آئی کے پہلے چھ ماہ اگست سے دسمبر 2018 میں 1.72 بلین ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پہلے چھ ماہ اگست سے دسمبر 2018 میں 1.72 بلین ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے اختتامی مدت تک ایک ہزار ارب روپے کے گردشی قرضے چھوڑ کر گئی تھی۔حماد اظہر نے دعویٰ کیا کہ ملکی اور غیر ملکی معاشی ماہرین متفق ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے ملکی معیشت کو شدید بحران پر لا کھڑا کیا تاہم تحریک انصاف نے معیشت کو سہارا دینے کے لیے اصلاحاتی اقدامات اٹھائے۔جولائی سے دسمبر میں تجارتی خسارے 5 فیصد کمی آئی جبکہ صرف دسمبر میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔حماد اظہر نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی ناکام معاشی پالیسیوں سے ریٹنگ کم ہوئی اور ان کے دور میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھا۔وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 5 سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ڈھائی راب ڈالرتھا۔مسلم لیگ (ن) پر الزام لگایا کہ ’جب کبھی معاشی اشاریوں کے لیے اچھی خبر آتی ہے تو اپوزیشن جماعت کے چند چہرے نمایاں ہو کرمنفی اعداد و شمار کے ساتھ عوام کو گمراہ کرتے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ (ن) نے اپنے اقتدار کے آخری سال معیشت کو بری طرح مفلوج کیا کہ آنے والے حکومت کو شدید بحران اور مشکلات کا سامنا رہے‘۔علاوہ ازیں وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ ’ستمبر 2018 تک موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ کم ظاہر کی اور مسلم لیگ نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کے لیے مطلوبہ فنڈ نہیں رکھے گئے‘۔’عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے (ن) لیگ دور میں مالیاتی خسارے کو خطرناک قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ 4 اگست کو پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے وزات خزانہ کا قلمدان سنبھالنے سے پہلے کہا تھا کہ ’ملک کی اقتصادی حالت ابتر ہے اور قومی خزانے کے لیے 6 ہفتوں میں 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے‘۔اسد عمر نے بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ رقم فراہم نہیں کی گئی تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی حالت ابتر ہوتی چلی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں