ٹیکسٹائل سیکٹر

ٹیکسٹائل سیکٹر کی زبوں حالی میں سب سے اہم چیز توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں،ریجنل چیئر مین اپٹپما

فیصل آباد (لاہور نامہ) ملکی معیشت کو اس وقت کئی قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی زبوں حالی میں سب سے اہم چیز توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں لہٰذا مسابقتی پوزیشن کو بہتر بنانے کیلئے ٹیکسز کی ہوشربا شرح کو بھی کم کرنا ہو گا ۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل پراسیسنگ ملزایسوسی ایشن کے ریجنل چیئرمین حافظ احتشام جاوید نے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ موجودہ حکومت نے انڈسٹریل سیکٹر بالخصوص ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کیلئے جو وعدے کئے تھے انہیں پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دیگر ممالک کی طرح ہمارے انڈسٹریل سیکٹر کو ریلیف پیکج فراہم کر دیا جائے تو نہ صرف ہم کرسمس اور نیو ایئر کے اربوں ڈالرز کے انٹر نیشنل آرڈرز حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اپنی کم پیداواری لاگت کے باعث زیادہ زر مبادلہ کا حصول بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ جس طرح وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کے ارکان ملکی مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں اور اس ضمن میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں ان حالات میں ملکی سرمایہ کاروں کو درپیش مشکلات کا بھی ازالہ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ حکومتی معاشی ٹیم میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکسٹائل سیکٹر کی کسی اہم صنعتی و تجربہ کار شخصیت کو حکومت کا ٹیکسٹائل ایڈوائزر مقرر کر دیا جائے تو وہ زیادہ بہتر انداز میں حکومت کی معاونت کے ساتھ اس شعبہ سے منسلک ہونے کے ناطے مسائل کا تدارک یقینی بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی زبوں حالی میں سب سے زیادہ ہاتھ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ہے جن کے تناظرمیں ہم خطے کے دیگر ممالک سے مصنوعات کی فروخت میں مسابقتی سکت کھو چکے ہیں اس کے علاوہ ٹیکسز کی ہوش رباشرح اور دیگر مسائل نے بھی کاروباری شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے اسلئے اگر ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کردیا جائے تو نہ صرف ہماری مسابقتی سکت بہتر ہوگی بلکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگاجس سے نہ صرف روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ برآمدات کے ذریعے کثیر زرمبادلہ کا حصول بھی ممکن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ خام مال کی برآمد کی بجائے مصنوعات کی برآمدات میں زیادہ منافع ہے لہٰذا ہمیں اس کیلئے بھی صنعتی شعبہ کو سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں