فلور ملنگ انڈسٹری

ٹیکسٹائل کی طرح فلور ملنگ انڈسٹری بھی حکومت کے رحم وکرم پر ہے،حبیب الرحمن لغاری

لاہور (گلف آن لائن)پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پنجاب) کے چیئرمین حبیب الرحمن خان لغاری ، گروپ لیڈر عاصم رضا ، لیاقت علی خان، میاں ریاض احمد اور افتخار احمد مٹونے کہا ہے کہ ملک کی سب سے زیادہ ریونیو دینے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کیطرح اب فلور ملنگ انڈسٹری بھی حکومت کے رحم و کرم پر ہے کیونکہ حکومت کی غیر مستحکم ٹریڈ پالیسیوں کی وجہ سے اربوں ڈالر کے سرمائے سے لگائی گئی مقامی فلور ملنگ انڈسٹری گونا گوں مسائل سے دوچار ہے، چیئرمین حبیب الرحمن خان لغار ینے کہا کہ ہمیں اپنے مخالف ہمسایہ ملک سے ہی سبق سیکھ لینا چاہیے عاصم رضا نے کہا کہ ہمارا مخالف ہمسایہ ملک بھارت کئی چیزیں امپورٹ کر کے انکو ویلیو ایڈیشن کے ذریعے ایکسپورٹ کر کے بھاری زرمبادلہ کما رہا ہے اور اپنے گاہکوں کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

جبکہ ہمارے ملک میں اربوں ڈالر سے لگائی گئی مقامی انڈسٹری کو تباہی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے ، اور ایسی معاشی اور تجارتی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جن کے مقامی انڈسٹری پر براہ راست منفی اثرات پڑتے ہیں لہذا حکومت کو ہوش کے ناخن لینا چاہے اور فلور ملنگ انڈسٹری یا آٹا اور آٹے کی مصنوعات کی افغانستان ایکسپورٹ کے حوالے سے کسی بھی صورت ایسی کوئی بھی پالیسی نہ بنائی جائے جس سے مقامی انڈسٹری کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔کیونکہ انٹرنیشنل بارڈرز کو کبھی بند نہیں ہونا چاہیے ، حکومت کو چاہے کہ اگر ہم سستی گندم باہر سے امپورٹ کر کے اسکی ویلیو ایڈشن کے ذریعے زرمبادلہ کما سکتے ہیں تو انڈسٹری کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنے ملک کیلئے زرمبادلہ کمائے ۔اس کیلئے انڈسٹری کو فری ہینڈ دیا جائے ،پورے پاکستان میں 1400 فلور ملز ہیں ان میں سے صرف پنجاب میں 930 فلور ملز موجود ہیں فلو رملنگ انڈسٹری کے اندر اتنی صلاحیت موجو دہے اگر ہم گندم کی مصنوعات تیار کر کے صرف افغانستان ایکسپورٹ ، تو اس سے اربوں ڈالر کا خالص زرمبادلہ کما کر حکومت کو دے سکتے ہیں۔لہذا افغانستان کیلئے مقامی انڈسٹر ی پر آٹا یا اسکی مصنوعات کی ایکسپورٹ پر کسی بھی قسم کی پابندی لگانے سے گریز کیا جائے اور مقامی انڈسٹری کو چلنے دیا جائے اس سے لاکھوں خاندانوں کے روزگار وابستہ ہیں۔لیاقت علی خان نے کہاکہ ہمیں موجودہ حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں ہم حکومت کو فلور ملنگ انڈسٹری کے ذریعے فاضل گندم سے آٹا اور آٹے کی مصنوعات بنا کر افغانستان ایکسپورٹ کر کے ملک کو اربوں ڈالر زرمبادلہ کما کر دے سکتے ہیں ،میاں ریاض احمد اور چوہدری افتخار احمد مٹو نے کہا کہ براہ راست گندم ایکسپورٹ کرنے کے کسی بھی فیصلے کو انڈسٹری قبول نہیں کرے گی، کیونکہ گندم ہماری انڈسٹری کا راء مٹیریل ہے،کیونکہ ایسا کوئی بھی فیصلہ لاکھوں افراد کے چولہے بند کر دے گا اور اربوں ڈالر کے سرمائے سے لگائی گئی مقامی فلور ملنگ انڈسٹری تباہ ہوجائے گی –

اپنا تبصرہ بھیجیں