ہتھیاروں کی

پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں، وزیر خارجہ

اسلام آباد (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں،بھارت کی جانب سے ایس 400 بیلاسٹک میزائل خطے میں عدم توازن کا باعث بنے گا،دو ایٹمی ملک جنگ بارے سوچ بھی نہیں سکتے، دفاع کا حق رکھتے ہیں ، عالمی برادری کو خطے کی سٹریٹجک صورتحال کو سمجھنا ہوگا، مسائل کا واحد حل مذاکرات ہی ہوا کرتے ہیں ،بھارت سے ہمسائیوں والے تعلقات چاہتے ہیں ۔

بدھ کوجنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام اور ابھرتے چیلنجز کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ حالیہ بھارت کے انٹی میزائل ٹسٹ پر سخت تشویش ہے۔انہوںنے کہاکہ نیوکلیر سپلائر گروپ میں بھارت کی شمولیت سے خطے میں عدم ادتحکام پیدا ہوگا، خطے کی سیکیورٹی کس مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارت کو ہتھیاروں کی فراہمی بارے بیرونی ممالک کو سوچنا ہوگا۔

انہوںنے کہاکہ ہم پرامن ملک ہیں اور ذمہ دار جوہری ریاست ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم کئی بار بھارت کو نیوکلیئر ریسٹرینٹ رجیم کی پیشکش کرچکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم دوسرے ممالک سے بھی ذمہ داری کی توقع۔ رکھتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ خطے میں استحکام کےلئے میزائل ٹیکنالوجی اور جوہری صلاحیت کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان سمجھتا ہے پاک بھارت مزاکرات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔وزیر خارجہ نے کہاکہ فوری پاک بھارت مذاکرات کی ضرورت ہے۔

انہوںنے کہاکہ خطے میں پائیدار امن کے لئے کشمیر کے تنازعہ کا حل ضروری ہے۔انہوںنے کہاکہ کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ دنیا بھر میں بسنے والی سکھ کمیونٹی کےلئے کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کی جانب سے ایس 400 بیلاسٹک میزائل خطے میں عدم توازن کا باعث بنے گا۔ انہوںنے کہاکہ این ایس جی کو بھی توازن کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ عالمی برادری کو خطے کی سٹریٹجک صورتحال کو سمجھنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان امن پسند ملک ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے بھارت کو نیوکلیئر میزائل ہتھیاروں کے حوالے سے ایک تجویز دے رکھی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس تجویز کا بنیادی مقصد ہی ہتھیاروں کی دوڑ روکنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے ابھی تک اس کا جواب نہیں دیا۔

انہوںنے کہاکہ بھارت کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق خود ارادیت نہیں دے رہا۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے باعث تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان بھارت کو کشمیر سمیت تمم مسائل مزاکرات کے ذریعے حل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان بھارت کو غربت کے خاتمے سمیت تمام مسائل کیخلاف مشترکہ جدوجہد کی دعوت بھی دیتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے کرتار پور راہداری کا قدم اٹھایا۔ انہوںنے کہاکہ چینی قونصل خانے پر حملے کے باوجود اس سے پیچھے نہیں ہٹا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے اٹاری میں ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور ملتوی کیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ بھارت کو بتانا چاہتا ہوں کہ مسائل کا واحد حل مذاکرات ہی ہوا کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم بھارت کے امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے ہمسائیوں والے تعلقات چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم بھارت کے ساتھ تمام مسائل کا حل مذاکرات کے زریعے چاہتے ہیں،جارحیت سے پورا خطہ غیر مستحکم ہو گا۔

انہوںنے کہاکہ دو ایٹمی ملک جنگ بارے سوچ بھی نہیں سکتے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان نے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں