ریاست مدینہ

پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کیلئے لازم ہے کہ ہم نبی کریمؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں،اظہار مقررین

لاہور:پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کیلئے لازم ہے کہ ہم نبی کریمؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور اپنی زندگی اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں‘ قیامِ پاکستان کا مقصد جدید اسلامی‘ فلاحی اور جمہوری ریاست کا قیام تھا جس کے ذریعے دنیا میں اسلامی تہذیب و تمدن کا ازسرِ نو احیا کیا جا سکے‘ ملک کو درپیش چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ عہدہ برا ہونے کیلئے ہمیں تحریک پاکستان والے جذبہ اور اتحاد ویکجہتی کی ضرورت ہے‘ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آنے والا یہ ملک تاقیامت قائم و دائم اور مستقبل میں اقوام عالم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتا رہیگا۔ ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں گیارہویں سالانہ سہ روزہ نظریۂ پاکستان کانفرنس کے پہلے روز منعقدہ افتتاحی اور دوسری نشست کے دوران کیا۔
اس کانفرنس کا کلیدی موضوع’’ریاست مدینہ۔نشان منزل ‘‘ ہے۔افتتاحی نشست کے مہمانان خاص تحریک پاکستان کے گولڈمیڈلسٹ کارکنان تھے ۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید ‘ نعت رسول مقبول ؐ اورقومی ترانہ سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت حافظ محمد عمر اشرف نے حاصل کی حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیۂ عقیدت جبکہ عائشہ رشید اور عظیم ٹیلنٹ ہائی سکول کی طالبات نے کلام اقبالؒ پیش کیا۔ نظامت کے فرائض شاہدرشید نے اداکیے۔ ‘ سابق صدر مملکت اور چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے شرکائے کانفرنس کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ اس نظریاتی اجتماع کا مقصد اُن جذبوں اور ولولوں کو از سر نو ابھارنا ہے جو تحریکِ پاکستان کے دوران مسلمانانِ ہند کے دل و دماغ میں موجزن تھے۔ امیدِ کامل ہے کہ اس کانفرنس کی بدولت قومی یکجہتی کو فروغ حاصل ہو گا۔ تحریکِ پاکستان کا مقصد درحقیقت ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جو عہدِ حاضر میں سیّد الانبیاء والمرسلین حضرت محمد ؐ کی قائم کردہ ریاستِ مدینہ کا عکسِ جمیل ہو۔ نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ ان نظریاتی اجتماعات کا بنیادی مقصد اہل وطن کے دل و دماغ میں پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کو مستحکم کرنا اور ملک و قوم کو لاحق مختلف النوع مسائل پر غور و خوض کرکے ان کے قابل عمل حل تجویز کرنا ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران آزادی کے جذبہ نے گروہوں میں بٹے منتشر مسلمانوں کو متحد کر دیا اور تمام باہمی اختلافات مٹ گئے، اسی لئے قائداعظم نے پاکستان کو خداوندی تحفہ قرار دیا تھا۔ میاں فاروق الطاف نے کہا کہ یہ اجتماع جہاں نظریۂ پاکستان کی ترویج و اشاعت کا ذریعہ بنے گا وہیں قومی اتحاد و یکجہتی کا بھی باعث ہو گا۔ہم پوری قوم بالخصوص نسلِ نو کوتحریک پاکستان ، دوقومی نظریہ، قیام پاکستان کے اسباب ومقاصد اور مشاہیر تحریک آزادی کی حیات وخدمات سے آگاہ کر رہے ہیں ۔
سینیٹر ولید اقبال نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ریاست مدینہ کے تصور کو سمجھنے کیلئے چند بنیادی باتیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ نبی کریمؐ نے نئے اسلامی معاشرہ کی بنیاد رکھتے ہوئے ایک وثیقہ لکھا جس کی پہلی شق یہ تھی کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ، اسے’’ مواخات مدینہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ بعدازاں نبی کریمؐ نے ایک مسجد تعمیر فرمائی اور خود اس کی تعمیر میں حصہ لیکر مساوات کی عملی مثال قائم فرمائی۔ اس کے بعد نبی کریمؐ نے ایک سیاسی معاہدہ کیا جسے’’ میثاق مدینہ ‘‘کہا جاتا ہے۔ اس میثاق کے تحت تمام شہریوں کو انکے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی دی گئی۔ نظام زکوٰۃ ریاست مدینہ کا ایک بنیادی اور اہم جزو تھا، غریبوں اور مسکینوں کی امداد اولین ترجیح ہوتی تھی، اس ریاست میں افرادی قوت کا بہترین استعمال کیا گیا، اس ریاست کا بنیادی اصول یہ تھا کہ روپیہ گردش میں رہے، فضول خرچی کی ممانعت تھی، اشیاء خوروونوش میں ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کی ہرگز اجازت نہیں تھی، ناپ تول میں کمی نہیں کی جا سکتی تھی۔ سابق ممبر قومی اسمبلی اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی سرپرست بیگم مجیدہ وائیں نے کہا کہ قائداعظمؒ نے ہمیں ’’کام ، کام اور کام ‘‘ کا پیغام دیا۔ مزدور رہنما اور پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل خورشید احمد نے کہا کہ قائداعظمؒ نے ہمیشہ سچ بولا۔ قائداعظمؒ کے کردار کی عظمت کی وجہ سے ہی مسلمانان برصغیر ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہو گئے تھے۔ تحریک پاکستان کے کارکن میاں اے مجیدنے کہا کہ نظریۂ پاکستان کی ترویج واشاعت وقت کی ضرورت ہے، ہمارا مرکز نئی نسلیں ہیں کہ ان تک نظریۂ پاکستان کا پیغام پہنچایا جائے۔
تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور سابق وفاقی وزیر محمد ارشد چودھری نے کہا آزاد وطن کے حصول کیلئے مسلمانان برصغیر نے جان ومال کی لازوال قربانیاں دیں۔ آج تحریک پاکستان کے جذبوں کو ازسرنو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ شاہد رشید نے کہا کہ پاکستان دوقومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ۔ وطن عزیز کے حصول کی خاطر جان ومال کی لازوال قربانیاں دی گئیں لہٰذا اس کی قدر کریں۔ قبل ازیں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد اور چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے کارکنان تحریک پاکستان کے ہمراہ پرچم کشائی کی رسم اداکی ۔اس موقع پرجسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے ملک و قوم کی ترقی ، خوشحالی اور استحکام کیلئے دعا کروائی۔کانفرنس کی افتتاحی نشست کے آغازپر تمام شرکاء نے پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کی قیادت میں قومی عہد پڑھا ۔
پروگرام کے دوران قائداعظمؒ کی یونیورسٹی گراؤنڈ لاہور میں30اکتوبر1947ء کے تاریخی خطاب کے ایک اقتباس کی ریکارڈنگ سنائی گئی۔ کانفرنس کی افتتاحی اور دوسری نشست میں سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت و چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد، ممتاز ماہر قانون جسٹس(ر) خلیل الرحمن خان، نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شعبۂ خواتین کی کنوینر بیگم مہناز رفیع، سیکرٹری شعبۂ خواتین بیگم صفیہ اسحاق، غزالہ شاہین وائیں، کنوینر مادر ملتؒ سنٹر پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، کرنل(ر)عبدالرزاق بگتی، بیگم خالدہ جمیل، محمد آصف بھلی، عظیم اعوان، نظریۂ پاکستان فورم پشاور کے صدر ملک لیاقت علی تبسم، نظریۂ پاکستان فورم جہلم کے صدر پروفیسر قدرت علی چودھری، نظریۂ پاکستان فورم کوئٹہ کے راز محمد لونی، نظریۂ پاکستان فورمزکے عہدیداران ، دانشوروں، اساتذۂ کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں