ہیلتھ ریسرچ

پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل کی رپورٹ کے اعداد و شمار حیران کن ہیں، سدرہ عمران

کراچی(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سندھ حکومت کی ناکامی پر شدید برہمی کا اظہار ، رکن صوبائی اسمبلی سدرہ عمران نے کہا کہ پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل کی رپورٹ کے اعداد و شمار حیران کن ہیں رپورٹ کے مطابق صوبے میں اس وقت 30لاکھ لوگ ہیپاٹائٹس بی اور 5320سی کا شکار ہیں جس میں ہزاروں مریض علاج کی سہولت سے محروم ہیں علاج تو دور کی بات مگر سندھ حکومت مریضوں کی اصل رجسٹریشن کرنے میں ناکام ہوچکا ہے پروگرام پر اب تک 2ارب 44کروڑ 45لاکھ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں لیکن رزلٹ کچھ بھی سامنے نہیں آسکا محکمہ صحت کے پاس مریضوں کی اسکریننگ کے لیے جدید آلات بھی موجود نہیں ہیں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کا ادارہ برائے نام رہ گیا ہے سندھ کی سرکاری و پرائیوٹ ہسپتالوں میں سہولیات دینے میں ناکام ہوچکا ہے

سندھ بھر میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار ہے جن سے ہیلتھ کیئر کمیشن کا عملہ بھتہ لینے میں مصروف ہے پی ایچ آر سی کی حالیہ رپورٹ محکمہ صحت کی ناکامی اور نااہلی کا ثبوت ہے محکمہ صحت خد اس وقت شدید بیمار ہے اس کا علاج کرنے کی اشد ضرورت ہے سندھ میں لوگ صحت کی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ وزیر صحت بیرون ممالک سیر سپاٹوں میں مصروف ہیں ہیلتھ کیئر کی ناکامی پر ان کے خلاف فوری انکوائری ہونے چاہیے اچھے اور قابل افسران کو میرٹ پر لاکر ہیلتھ کیئر کمیشن کو فعال کیا جائے رکن سندھ اسمبلی ریاض حیدر نے کہا کہ تین ماہ کا عرصہ گذر چکا لیکن سندھ حکومت نے ابھی تک ایڈز متاثرین کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی ایڈز کی وبا پورے سندھ میں تیزی سے پھیلتی جارہی ہے مگر حکمران صرف گھوٹکی الیکشن میں مصروف ہیں تھرپارکر کے بعد رتودیرو میں بھی اب روز مریض مررہے ہیں لیکن سندھ حکومت نیند سے بیدار نہیں ہورہی ہے سندھ حکومت کے پاس گھوٹکی الیکشن کے لیے وقت ہے مگر سندھ کی عوام کے لیے نہیں ، ایڈز کی روک تھام کے حوالے سے سندھ حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے کے این شاہ میں پانی کی قلت کے باعث اموات ہورہی ہیں جس تیز ی سے پیپلزپارٹی کے رکن میر نادر مگسی کی فریاد سنی گئی اسی انداز سے سندھ حکومت سندھ کے لوگوں پر بھی رحم کھائے سندھ کی عوام پر خرچ ہونے والا پیسہ گھوٹکی الیکشن میں خرچ کیا جارہا ہے سندھ حکومت کی بادشاہت میں رعایا بھوک و پیاس سے مررہی ہے سندھ کے مظلوم عوام کی بددعائیں سندھ کے حکمرانوں کو لے ڈوبیں گی ۔#

اپنا تبصرہ بھیجیں