(ن) لیگ لاہور

پرویز ملک کی زیر صدارت (ن) لیگ لاہور کااجلاس ،مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر پرویز ملک کی زیر صدارت پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں اجلاس ہوا جس میں لاہور کی سطح پر نئی تنظیم سازی ،شہباز شریف کی وطن واپسی پر استقبال ، حکومت کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کیخلاف ریفرنسز ،حکومت کیخلاف متوقع احتجاجی تحریک سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا ۔اجلاس میں جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ملک ریاض، وحید گل، سہیل شوکت بٹ، توصیف شاہ، سمیع اللہ خان، سیف الملوک کھوکھر، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن، غزالی سلیم بٹ، مرزاجاوید، رمضان صدیق بھٹی اور میاں نصیر احمد سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی ۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک پرویز نے کہا کہ اجلاس میں پارٹی کی نئی تنظیم سازی پر غور کیا گیا، اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز دائر کئے جانے سمیت دیگر امور زیر بحث آئے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اجلاس میں نواز شریف کی فیملی کو عید کے موقع پر ان سے ملاقات کی اجازت نہ دیئے جانے کی مذمت اور شمالی وزیرستان میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران اورجوانوں کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ شہباز شریف کی واپسی سے فردوس باجی کو افسوس ہوا ہو گا، پارٹی کی جانب سے شہباز شریف کے استقبال کیلئے کوئی کال جاری نہیں کی گئی لیکن کارکنوں کا اصرار تھا کہ شہباز شریف کی واپسی پر ائیرپورٹ جایا جائے جس پر کارکنوں کو اپنے طور پر ایئرپورٹ پہنچ کر شہباز شریف کا استقبال کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے اس لئے ہم شہباز شریف کا استقبال کرنے لاہور ایئرپورٹ ضرور جائیں گے۔ خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ جب جنرل مشرف کو حکومت ملک واپس لے آئے گی اور باجی علیمہ اپنی بیرون ممالک میں جائیدادوں کا حساب دے دیں گی تو حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار بھی وطن واپس آ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والا بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہو گا جس کے اثرات سے عوام کو بچانے کیلئے ہم نے اپنا کردار ادا کرنا ہے کیونکہ غریب عوام مہنگائی کے چکی میں پس چکی ہے لیکن چندے اور اے ٹی ایم سے پلنے والے حکمرانوں کو اس مہنگائی سے کوئی فرق نہیں پڑا ۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی نئی تنظیم سازی آئندہ 15 روز میں مکمل کر لی جائے گی جس کے لئے 2 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں