پلوامہ واقعے

پلوامہ واقعے میں پاکستانی حکومت کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں، سابق صدر

اسلام آباد : سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ بھارت کی پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش بھیانک غلطی ہو گی۔ پاکستان کو دھمکیاں دینے سے کام نہیں چلے گا بلکہ بھارت کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو گا۔
سابق صدر پرویز مشرف کا بھارتی چینل کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ کشمیری اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے کوششیں کر رہے ہیں اور بھارت نے کشمیر میں مظالم بند نہ کیے تو ایسے واقعات دوبارہ بھی رونما ہو سکتے ہیں۔انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو یہ ہمارے پڑوسی کی بھیانک غلطی ہوگی۔بھارتی اینکر کے ایک سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’مودی کے دل میں بھارتی فوجیوں کے مرنے کی آگ نہیں ہو گی جتنی میرے دل میں آگ لگتی ہے جب مقبوضہ وادی میں کشمیری مارے جاتے ہیں، جب کشمیری بچوں کی آنکھیں پیلٹ گن کے چھروں سے زخمی ہوتی ہیں اور وہاں جو کشمیریوں کے ساتھ ہو رہا ہے ان کیلئے جو میرے آنسو بہتے ہیں مجھے پتا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ پلوامہ واقعے میں پاکستانی حکومت کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں اور پاکستانی حکومت اس معاملے میں ملوث نہیں ہے۔سابق صدر کے مطابق پاکستان کو دھمکیاں دینے سے کام نہیں چلے گا بلکہ بھارت کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو گا۔واضح رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں کی بس پر کار خودکش حملے میں 45 سے زائد فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔پلوامہ حملے کے بعد سے ہی بھارت نے بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی کشیدہ ہیں اور بھارتی میڈیا نے بھی پاکستان دشمنی میں تمام حدیں پار کردی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں