اونچی پرواز

ڈالر کی اونچی پرواز ، تاجر پریشان ، مارکیٹیں ویران کیا یہ ہے نیا پاکستان

لاہور (صباح نیوز) لاہور گلاس ایسوسی ایشن کے صدر محمود الحسن خان نے کہا ہے کہ ڈالر کی اونچی پرواز ، تاجر پریشان ، مارکیٹیں ویران کیا یہ ہے نیا پاکستان۔حکومت کے طفل تسلیوں اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث اسٹاک مارکیٹ شدید مندے کا شکار ،انڈیکس 400پوائنٹ تک نیچے گر گیا ،سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے اور معاشی انڈیکیٹرز خطرناک حد تک نیچے آ چکے ہیں جبکہ اکنامک مینجر پریشان ہیں کہ معیشت کا کیا بنے گا،جبکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان ڈالر کیپ کرنے سے معذور ہو گیا ہے آئی ایم ایف کا ایجنڈا عملاً نافذ کر دیا گیا ہے اور پاکستان کو امریکی کالونی بنا دیا گیا ہے ۔

یہ بات انہوں نے گزشتہ روز تاجروں کی ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ محمود الحسن خان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا ہر معاملے پر یوٹرن لینا اور آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خود کشی کو ترجیح دینے کی باتیں ، غریبوں کو ریلیف دوں گا سب ہوا ہو گئی ہیں الٹا غریب مکاؤ پالیسی پر کیا جا رہا ہے ، بجلی گیس ،پٹرول سمیت خوردونوش کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں بجلی گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی منصوبہ بند ی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ رمضان بازاروں اور یوٹیلیٹی سٹوروں پر اشیائے ضروریہ بایاب ہو چکی ہیں،ایک کلو گرام چینی کے حصول کیلئے عوام کو گھنٹوں لائنوں میں لگا کر انہیں ذلیل کیا جا رہا ہے ہر طرح مڈل مین مافیا چھایا ہوا ہے جبکہ ملک کو عملاً آئی ایم ایف کے ملازمین کے حوالے کر دیا گیا ہے دوسری جانب گورنمنٹ کے ہاتھ سے مانیٹری پالیسی بھی نکل کر آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ آئندہ چند روز میں پورے ملک میں مہنگائی کا سونامی آنے والا ہے خان صاحب کی کابینہ چوں چوں کا مربہ ثابت ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ تمام امپورٹرز کی لاگت میں 30فیصد اضافہ چکا ہے جبکہ اشیا ء کی قیمتیں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ عوام کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں،ادویات کی قیمتوں کو کم کرنے کیلئے فارما سیوٹیکل مافیا اور بیورو کریسی کے مابین گٹھ جوڑ کو ختم کیا جائے ،حکومت کے اندر موجود افراد ادویات اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھانے کیلئے مافیا کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ،چور اور چوکیدار کا ملاپ ہو چکا ہے اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جتنا قرض جس حکومت نے لیا اسی سے وصول کیا جائے اور بے جا مہنگائی اور قرضوں کا بوجھ کی چھری غریب عوام کی گردن پر نہ چلائی جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں