کابینہ کمیٹی نے 56

کابینہ کمیٹی نے سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل پر سفری پابندی عائد کردی

اسلام آباد: کابینہ کمیٹی نے سابق وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ کامران مائیکل اور ہزارہ کمیونٹی سے انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر پر سفری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزارت داخلہ کے مطابق کمیٹی کی جانب سے ملاقات میں 2 اہم شخصیات کا نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے سابق چیئرمین طارق ملک اور سندھ حکومت کے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالا گیا۔

کابینہ کمیٹی کی جانب سے سندھ کے وزیر انوار سیال، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد حسین، سندھ کے سابق سیکریٹری صنعت ضمیر احمد اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے دو منیجنٹ ڈائریکٹرز زاہد میر اور راؤف کاجک کے مقدمات کو ملتوی کردیا۔

خیال رہے کہ ای سی ایل پر کابینہ کمیٹی مختلف محکموں کی جانب سے بھیجے گئے مقدمات پر فیصلے کے لیے بنائی گئی تھی، کمیٹی کی جانب سے زیر بحث آنے والی فہرست میں زیادہ تر افراد وہ ہوتے جو مبینہ طور پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے کرپشن مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

کامران مائیکل: 9 فروری کو نیب کی جانب سے سابق وفاقی وزیر کو بطور وزیر اختیارات کا غلط استعمال اور ایک ارب روپے سے زائد کی خورد برد کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما پر کراچی کے علاقے مائی کولاچی میں کے پی ٹی کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے اہم مقامات پر 3 کمرشل اور فلیٹ سائٹ پلاٹس کی غیر قانونی منتقلی کا الزام ہے اور انہیں ان افراد کو الاٹ کیا گیا جس سے مبینہ طور پر رشوت لی گئی تھی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر نے 2013 میں اپنے من پسند افراد کے نام ان پلاٹس کو الاٹ کرنے کے لیے مبینہ طور پر اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا اور کچھ حکام پر دباؤ ڈالا جبکہ ان تینوں پلاٹس کی قیمت تقریباً ایک ارب 5 کروڑ روپے تھی۔

واضح رہے کہ نیب کراچی کی جانب سے اس طرح کے 16 پلاٹس سے متعلق کرپشن ریفرنس پہلے ہی دائر کیا جاچکا ہے، جس میں کامران مائیکل کے خلاف رشوت لینے کا ثبوت تحقیقات کے دوران سامنے آیا۔

کامران مائیکل 2013 سے 2016 تک وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ رہے تھے اس کے علاوہ وہ مختلف ادوار میں وفاقی کابینہ میں دیگر عہدوں پر بھی رہ چکے ہیں۔

جلیلہ حیدر: وہ ایک انسانی حقوق کی کارکن اور ایک غیر منافع بخش تنظیم وی دی ہیومن کی بانی بھی ہیں، یہ تنظیم کمزور خواتین اور بچوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مقامی برادریوں میں کام کرتی ہے۔

وہ خواتین کے حقوق کا تحفظ اور غریب خواتین کو مفت قانونی خدمات کی فراہمی میں مہارت رکھتی ہیں، وہ پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرم کارکن بھی ہیں، تاہم ان کی سفری پابندی کے پیچھے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

طارق ملک: اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم فروی کو حکم دیا تھا کہ سابق چیئرمین نادرا طارق ملک کا نام ای سی ایل سے ہٹا دیا جائے۔

ان کا نام ای سی ایل میں گزشتہ برس دسمبر میں پاکستان واپس آنے پر ڈالا گیا تھا لیکن انہوں نے حکومتی اقدام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے نام نکالنے کی درخواست کی تھی۔

واضح رہے کہ طارق ملک اپنے دور ملازمت میں دوہسری شہریت چھپانے کے کیس کا سامنا کر رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ان کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے پر ان کی نوکری بحال ہوگئی تھی۔

سہیل انور سیال: نیب کی جانب سے سندھ کے وزیر زراعت سہیل انور سیال کے خلاف لاڑکانہ کے لیے مختص فنڈز کے غلط استمعال کے الزام میں تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔

عبدالرؤف صدیقی: یہ بلدیہ ٹاؤن آتشزدگی واقعے اور غیر قانونی تقرریوں سے متعلق نیب کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں