این جی او

کسی این جی او کو ملک کی سلامتی اور وقار کے منافی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے

اسلام آباد (این این آئی)وزیرمملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے کہاہے کہ کسی این جی او کو ملک کی سلامتی اور وقار کے منافی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے، پاکستان مین قانون بالا تر ہے، این جی اوز کو قانون کے دائرے میں سرگرمیوں کی اجازت ہے، گھریلو تشدد اور صنفی عدم مساوات کے حوالے سے قانون ساز ی کے لیے عوامی نمائندوں کا باشعور ہونا ضروری ہے۔

جمعرات کو پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں صنفی مساوات کے حوالے سے سیمیناروزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے تقریب میں شرکت کی ۔صنفی مساوات اورحقوق کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے کہاکہ عورت کی عزت اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو فراموش کیا جو خواتین کے عدم احترام کی بنیادی وجہ ہے۔

انہوںنے کہاکہ آج خواتین کے احترام کے حوالے سے یورپ ہمیں جو سبق سکھا رہا ہے وہ ہماری بنیاد ہے۔ انہوںنے کہاکہ اسلام نے عورتوں کو جو احترام دیا وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے انسانیت کے احترام پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ گھروں میں چائلڈ لیبر ہمارے ہاں جرم تصور ہی نہیں ہوتا۔ انہوںنے کہاکہ گھریلو تشدد اور صنفی عدم مساوات کے حوالے سے قانون ساز ی کے لیے عوامی نمائندوں کا باشعور ہونا ضروری ہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان مین قانون بالا تر ہے، این جی اوز کو قانون کے دائرے میں سرگرمیوں کی اجازت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایم جی اوز کا احترام کرتے ہیں،این جی اوز کو تین سال دیے ہیں کہ وہ پاکستان کے معاشرتی ڈھانچہ کو مدنظر رکھ کر کام کریں۔ انہوںنے واضح کیا کہ کسی این جی او کو ملک کی سلامتی اور وقار کے منافی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاکہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کو ملک بھر میں نافذ کر دیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ تیسری جنس کو مفت برلن کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ قانون بننے کے بعد تیسری جنس پر تشدد کے خاتمے میں واضح کمی ہوئی۔

انہوںنے کہاکہ ہمیں خواتین پر گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ ملک دشمن میڈیا خواتین اور تیسری جنس پر تشدد کا منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ خواتین کو پولیس فورس میں آنے کے لیے ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس وقت خواتین کے لیے اسلام آباد میں صرف ایک کرائسز سنٹر قائم ہے۔ انہوںنے کہاکہ مزید سنٹرز قائم کرنے کےلئے فنڈز کا ایشو ہے، یو این سے معاونت کی توقع ہے۔ انہوںنے کہاکہ قانون موجود ہے مگر عملدرآمد اور آگہی کا فقدان ہے۔

انہوںنے کہاکہ خواجہ سراو¿ں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کیے ہیں، قانون پر عملدرآمد جاری ہے، بچوں کی ہراسگی کے خاتمے کیلئے ہمہیں شعور اجاگر کرنا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ گھریلو تشدد کی راہ تھام کا بل کیبنٹ سے منظور کر لیا ہے، جلد پارلیمنٹ سے منظور کر لیا جائےگا۔ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے کہاکہ وومن پولیس سٹیشن میں بچوں اور خواتین کےساتھ ہونے والے جرائم کیخلاف اکیشن لیا جاتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ 8090تشددکا شکار خواتین کی مدد کیلئے نمبرمختص کردیا گیاہے ،سات پولیس سٹیشنزمیں جینڈر ڈیسک قائم کردیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ چودہ تھانوں میں خواتین سٹاف کو تعینات کردیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ خواتین تین سو خواتین افسران ہیں، تین اے ایس پیز اسلام آباد پولیس میں کام کررہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ان خواتین پولیس کے مسائل کیلئے خصو صی ڈیسک بھی قائم کردیا گیا۔

آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار خان نے کہا کہ خواتین پر گھریلو تشددکے خاتمے کیلئے ہم یہ دوسرا سیمینار کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اسلام نے جو عورت کو مقام دیا وہ کسی مذہب نہیں دیا۔ انہوںنے کہاکہ برادری اور قبیلہ میں شادی کی روایت نے ہماری خواتین کیلئے بہت سے مسائل بنائے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میں ہرتھانے میں دس خواتین کو تھانے میں رکھنا چاہتاہوں، لیکن نفری کی کمی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر ایک خاتون اپنے میاں کیخلاف تھانے میں آتی ہی اور ریاست اسے تحفظ ہی دے سکتی تو پولیس کیا کرسکتی ہے؟ ۔

انہوںنے کہاکہ پچھلے تین سالوں میں تین سواکتیس شکایات ہوئیں لیکن ہم صرف ان کو یہی کہتے رہے کہ صلح ہوجائے۔ انہوںنے کہاکہ قانون پر عمل کے لیے ہمیں شیلٹر ہومز میں اضافہ اور ویمن پولیس کے کردار کو فروغ دینا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں