ضمانت منظور 23

عبدالعلیم خان کی درخواست ضمانت منظور، رہائی کا حکم

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے آف شور کمپنیوں اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و سابق سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی ایک ایک کروڑ کے دو مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا ۔

بدھ کے روز ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے عبدالعلیم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر فاضل بینچ نے کمرہ عدالت کے باہر شور پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باہر کھڑے لوگوں کو خاموش کرایا جائے۔جس پر علیم خان کے وکیل نے کہا کہ لوگ ہماری سپورٹ کیلئے موجود نہیں ۔ جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ ملزم کس ریمانڈ پر ہے۔

جس پر نیب وکیل نے بتایا کہ ملزم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہے۔نیب وکیل نے آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات پر گواہوں کے بیانات پڑھنا شروع کر دیئے۔نیب وکیل نے بتایا کہ علیم خان نے زمین کی قیمت کم دکھائی۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ یہ سب تو علیم خان نے گوشوارے میں لکھ دیا،آپ یہ بتائیں ان کے سورسز تھے؟ ۔وکیل نیب نے کہا کہ تخمینہ کار کا بیان موجود ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ بیرون ملک سے اتنے پیسے آئے، فلاں اکاﺅنٹس سے پیسے آئے، اس طرح کچھ بتائیں۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ بیرون ملک سے رقوم منتقل ہوئیں۔جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا وہ رقوم غیر قانونی تھیں؟ ۔تفتیشی افسر نے کہا کہ والد اور والدہ کا کوئی سورس پاکستان میں موجود نہیں، علیم خان والدہ اور والد سرکاری ملازم تھے، علیم خان 50 کروڑ روپے کی وضاحت نہیں دے سکے، علیم خان کے اکاﺅنٹنٹ نے بھی بیان میں کہا کہ پیسے ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک بھیجے گئے۔نیب نے علیم خان کے اخراجات اور ذرائع آمدن کی دستاویزات پیش کر دیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ یہ کون سے ذرائع ہیں، اس پر کوئی تاریخ نہیں۔تفتیشی افسر نے کہا کہ ابھی حتمی رپورٹ بنانی ہے اور چیئرمین نیب کو بھیجی جائے گی۔جسٹس علی باقر نجفی نے علیم خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ اس پر جواب دینا چاہیں گے گے؟ ۔

وکیل علیم خان نے کہا کہ میں اس کا جواب نہیں دوں گا کیونکہ اس پر نیب کے افسر کے کوئی دستخط موجود نہیں، نیب کی علیم خان کیخلاف پیش کی گئی رپورٹ غیر مصدقہ ہے۔ وکیل علیم خان نے کہا کہ 4 سال کے عرصے میں زمین خریدی گئی، اگر نیب نے یہ ثابت کرنا ہے کہ زمین کی قیمت زیادہ تھی تو اس کے لئے ثبوت پیش کرنا ہوں گے، گواہوں کے بیانات پر تو کیس نہیں بنتا، 18 سال پرانا کیس ہے اور ابھی تک ریفرنس نہیں فائل ہوا، عبدالعلیم خان کبھی مفرور نہیں رہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے نیب وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کی تفتیش کی کیا پوزیشن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں