مالی معاونت

نومبر 2017 سے حکومت کی طرف سے مالی معاونت نہیں ملی ، صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن

اسلام آباد:پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر نے کہا ہے کہ نومبر 2017 سے حکومت کی طرف سے مالی معاونت نہیں ملی ۔ اپنی کوششوں سے سندھ حکومت سے 20 کروڑ روپے لئے ۔ حکومت سے محاذ آرائی والی کوئی بات نہیں البتہ پالیسی کے مسائل ہیں جو وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائیں گے وہ گزشتہ روز صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ میں پی ایچ ایف کا منتخب صدر ہوں ۔ دھونس سے کوئی استعفٰی نہیں لے سکتا ۔ تاہم کوئی اس یقین دہانی کے ساتھ آئے کہ وہ ہم سے بہتر ہاکی چلا سکتا ہے ۔
ارجنٹائن ، بیلجیئم ، ہالینڈ ، آسٹریلیا کو شکست دے سکتا ہے ۔ فنڈز میں فیڈریشن کو خود کفیل کر سکتا ہے تو پی ایچ ایف اس کے حوالے کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہر جگہ وقار سے کام کیا ہے عہدوں کی پرواہ کی بجائے عزت کو اولیت دیتا ہوں ۔ جب سے پی ایچ ایف کا صدر بنا ہوں ۔ذاتی کوششوں سے کروڑوں روپے کے فنڈز لایا ہوں ۔ جس کا آڈٹ بھی کرایا ہے ۔ لیکن ہماری راہ میں ہر جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ۔ آخری وقت تک یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ٹیم بین الاقوامی مقابلوں کے لئے جائے یا نہیں ۔ ادھار لے کر ذاتی ذمہ داری پر بین الاقوامی کمٹمنٹس پوری کرتے رہے ہیں اب بھی کروڑوں روپے کے قرض دار ہیں ۔
ہمارے مقابلے میں بھارت کا نہ صرف ہاکی کے لئے اربوں روپے کا بجٹ ہے بلکہ ملک بھر میں بہترین انفراسٹرکچر بھی بنا رکھا ہے ۔ منظوری کے باوجود تبدیل کی جانے والی مصنوعی گھاس کی گرا¶نڈز کی حالت دگرگوں ہے ۔پرولیگ کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ایگریمنٹ سائن کیا تھا لیکن بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہم کیمپ تک نہ لگا سکے ۔ ہمارے ٹرینر اور کوچ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے چھوڑ کر چلے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ پرولیگ چھوڑنے کی وجہس ے ہمیں جرمانہ اور پابندی کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن اس کے لئے ہم اپنا کیس پیش کریں گے اپنی مجبوریاں بتائیں گے ۔ جس کی وجہ سے امید ہے کہ ہمیں زیادہ مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی ہاکی سٹیڈیم کی لیز پاکستان آرمی سے ہمیں مل گئی ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں ہم مالی طور پر خودکفیل ہو سکتے ہیں ۔پاکستان نیوی
نصیر بندہ ہاکی سٹیڈیم میں ٹیرف سمیت سٹیڈیم کی تعمیر اور دیگر سہولیات دینے کو تیار ہے ۔ لیکن اس کے لئے پاکستان سپورٹس بورڈ کو منظوری دینا ہو گی ۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ نے ہمارے ساتھ ہاکی اکیڈمی اور انہیں ہاکی ٹیم بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن ہم معاہدے کے مطابق انہیں کچھ نہ دے سکے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان آرمی ، پاک نیوی ہاکی کے فروغ کے لئے پوری طرح ہمارے ساتھ کھڑی ہے ۔ حکومت کی سپورٹ سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ہم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حکومت ہمیں کچھچ دینے کی بجائے خود خرچہ کرے تو بھی ہم تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ سیٹوں کے لئے گند ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر انہیں سیٹ مل جائے تو سب اچھا ہے ۔ گفتگو کے دوران پی ایچ ایف کے سیکرٹری شہباز سینئر اور خزانچی اخلاق عثمانی بھی موجود تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں