مولانا حافظ حمداللہ

لانگ مارچ 23مارچ کو ہی ہو گا، آزادی مارچ کا فیصلہ جمعیت علماءاسلام کاہے، مولانا حافظ حمداللہ

کو ئٹہ/اسلام آباد(لاہورنامہ)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی ترجمان و جمعیت علماءاسلام کے رہنماء مولانا حافظ حمداللہ نے کہاہے کہ 23مارچ کو ہم لانگ مارچ کریں گے ، آزادی مارچ کا فیصلہ جمعیت علماءاسلام کا تھا جبکہ لانگ مارچ کا فیصلہ 8جماعتوں کا ہے ، پی ڈی ایم چاہتی ہے کہ عدلیہ ، مقننہ ، انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرے .

لانگ مارچ تک ہمارے پاس 3مہینے کا وقت ہے جس کے دوران پی ڈی ایم عوام کو موبلائز کرے گی تمام صوبوں میں کنونشنز منعقد کئے جائیں گے ، کراچی کنونشن کی ذمہ داری شاہ اویس نورانی ، کوئٹہ کنونشن کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی، پشاور کنونشن کی ذمہ داری مولانا فضل الرحمن نے کے سپرد کی گئی ہے ، صوبوں میں کنونشنز کی تاریخیں پنجاب میں شہباز شریف کی جانب سے بلائے گئے پی ڈی ایم کے اجلاس میں طے کئے جائیں گی ، حکمرانوں نے ملک کو اس نہج تک پہنچادیا ہے کہ اب عوام کو نیا پاکستان نظر آرہا ہے اور نہ ہی پرانا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پی ڈی ایم کے اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعداسلام آباد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔مولانا حافظ حمداللہ نے کہاکہ آج پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پی ڈی ایم کے مارچ کے لئے سفارشات اور تجاویز مرتب کئے گئے .

کنونشنز کراچی ، کوئٹہ ، پشاور اور لاہور میں منعقد ہوں گے تاہم فی الوقت ان کے تاریخیں طے نہیں ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ میاں محمد شہباز شریف پنجاب میں پی ڈی ایم کا اجلاس طلب کریں گے جس میں صوبوں میں کنونشنز کی تاریخیں طے کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے لانگ مارچ کے لئے شاہ اویس نورانی کی ذمہ داری لگائی گئی ہے جو صوبہ سندھ کی تاریخ بتائیں گے جبکہ خیبر پشتونخوا میں پشاور میں کنونشن ہوگا .

جس کی ذمہ داری پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے لی ہے جبکہ اسلام آباد میں مرکزی کنونشن کی ذمہ داری مولانا فضل الرحمن نے لی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کنونشن کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی کے سپرد کی گئی ہے ۔ مولانا حافظ حمداللہ نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن وکلاءاور بار کونسلز سے گفتگو کریں گے جبکہ اسلام آباد کنونشن میں سول سوسائٹی ، صحافی ، طلباءسمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شرکت کریںگے کیونکہ عمران خان ملک کے لئے مہلک بیماری سے کم ثابت نہیں ہوئے ہیں جب کہ عمران خان کی صورت میں وباءملک پر مسلط ہوئی ہے اسی دن سے ملکی معشیت تباہی کی جانب گامزن ہے .