شکست کا سامنا

واشنگٹن کی بالادستی کو ایک اور شکست کا سامنا

واشنگٹن (لاہورنامہ)اوپیک پلس نے نومبر سے یومیہ 2 ملین بیرل خام تیل کی پیداوار کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد سے امریکہ شدید سیخ پا ہے۔

منگل کے روز رپورٹ کے مطا بق دراصل ، بائیڈن انتظامیہ کو امید تھی کہ مشرق وسطیٰ میں تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک ،تیل کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے پیداوار میں اضافہ کریں گے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں امریکہ کی مدد کریں گے، لیکن نتیجہ اس کی امیدوں کے برعکس نکلا۔

اوپیک پلس نے پیداوار کم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں حالیہ کمی نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی آمدنی اور منافع میں کمی کی ہے، چونکہ انہیں خدشہ ہے کہ تیل کی قیمتیں مزید گر جائیں گی اس لیے انہوں نے قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے حجم کو کم کرنے کی حکمت عملی کا انتخاب کیا۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ، “جیو پولیٹیکل گیمز” کے اثر کی وجہ سے، عالمی اقتصادی ترقی کی غیر یقینی صورتِ حال میں اضافہ ہوا ہے اور مستقبل میں تیل کی طلب کم ہو سکتی ہے۔

سادہ الفاظ میں کہا جائے تو تیل کی قیمتیں اوپیک + ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی “زندگی” ہیں، پیداوار میں کمی کا فیصلہ ان کے اپنے معاشی مفادات پر مبنی ہے، لیکن یہ امریکہ کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اس سال جولائی میں جب بائیڈن نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو ان کا ایک اہم مقصد امریکہ میں مہنگائی کو کم کرنے کے لیے تیل کی قیمتوں میں کمی لانا تھا۔

امریکہ نے چاہے جتنی بھی محنت کی لیکن خلیجی ممالک نے امریکہ کی مدد سے انکار کر دیا۔ یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ وہ اب امریکہ سے احکامات لینے پر آمادہ نہیں ہیں، اور اپنے مفادات کے دفاع کے لیے ان کا عزم بہت پختہ ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جب امریکہ نے اوپیک + کے تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے پر غصے کا اظہار کیا تو فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے امریکہ سے کہا کہ جب یورپی اتحادی توانائی کی قلت کا شکار ہیں تو امریکہ کا قدرتی گیس کو زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کا رویہ درست نہیں ہے یہ یورپ اور امریکہ کے درمیان “حقیقی دوستی ” کا رویہ نہیں ہے۔