چین کے ساتھ کاروبار

چین کے ساتھ کاروبار کرنا مقبول ہوتا جا رہا ہے،چینی میڈ یا

بیجنگ (لاہورنامہ)حالیہ برلن مکینیکل انجینئرنگ سمٹ میں جرمن چانسلر شولز نے ایک بار پھر واضح طور پر عالمگیریت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ڈی کپلنگ” سراسر غلط ہے۔ انہوں نے چین سمیت مختلف ممالک کے ساتھ “کاروبار” کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مستقبل قریب میں پانچویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کا انعقاد کیا جائے گا۔اس وقت 280 سے زائد سرکردہ صنعتی ادارے نمائش میں شرکت کریں گے۔گزشتہ ایکسپو میں شامل ہونے والے ان اداروں کے نوے فیصد نے دوبارہ شرکت کا انتخاب کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہے کہ “چین کے ساتھ کاروبار کرنا” زیادہ سے زیادہ ممالک کے کاروباری اداروں کا انتخاب بن گیا ہے۔

سال 2020 سے، چین مسلسل دو سال تک اشیا کی تجارت میں یورپی یونین کا سب سے بڑا شراکت دار رہا ہے۔پچھلے سال چین اور یورپی یونین کے درمیان درآمدات و برآمدات کا کل حجم پہلی بار 800 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ اعدادوشمار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چین-یورپی یونین کے اقتصادی اور تجارتی تعاون نے دونوں فریقوں کی ترقی میں مثبت مدد فراہم کی ہے اور باہمی مفادات پر مبنی تعاون کے اس رجحان کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

چین دنیا کو نایاب “یقینی عوامل” فراہم کر رہا ہے۔ چین کی اپنی طویل مدتی ترقی کے امکانات یقینی ہیں، چین کا اصلاحات اور کھلے پن کا عزم یقینی ہے، اور دوسرے ممالک کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے چین کا رویہ بھی یقینی ہے۔

“جب مفادات کا حساب لگایا جائے تو تمام فریقوں کے مفادات کا حساب لگائیں”۔چین تعاون اور جیت جیت کے تصور سے دنیا کی اقتصادی بحالی کے لیے مسلسل قوت محرکہ فراہم کر رہا ہے۔