خوشحالی کے لیے جدوجہد

میاؤ قومیت کی خوشحالی کے لیے جدوجہد کرنے والی سی پی سی رکن کی کہانی

بیجنگ (لاہورنامہ) سی پی سی کی بیسویں قومی کانگریس میں شریک مندوب یانگ نینگ چین کے گوانگ شی زوانگ قومیت کے خوداختیار علاقے کی میاؤ قومیت کی خوداختیار کاؤںٹی کے ایک دیہات کی رہنما ہیں۔

سال 2010 میں یانگ نینگ اپنی گریجویشن کے بعد آبائی گھر جیانگ مین نامی گاؤں میں واپس آئیں جو کافی پسماندہ علاقہ تھا۔گاؤں والوں کو غربت سے نکالنا ان کا اولین ہدف تھا۔اس لیے انہوں نے بانس اورمرچیں وغیرہ کاشت کرنے کے کاروبار کی متعدد کوششیں کی تھیں جو کئی مرتبہ ناکامی سے دوچار ہوئیں۔

بار بار ناکامی کے باوجود انہوں نے دو ہزار سترہ میں وہاں کے منفرد چاول پر نظر ڈالی جو صرف وہاں کے پہاڑوں میں اگتا ہے اور عذایت سے مالامال ہے۔چاول کی کاشت کے ساتھ ساتھ انہوں نے بطخیں پالنے اور ماہی پروری کے طریقے بھی متعارف کروائے، یوں مقامی آبادی کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا۔

بارہ سال میں اس گاؤں کی آبادی کی آمدن میں دس گنا اضافہ ہوا ہے اور اپنے دیہات میں بڑی تبدیلی کو دیکھ کر یانگ نینگ کو بڑی خوشی محسوس ہے۔بیسویں قومی کانگریس کے دوران انہوں نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ “زندگی جدوجہد سے مزید عظیم ہوتی ہے۔میں میاؤ قومیت کے عوام کی خوشحال زندگی کےلیے مزید کوشش کرتی رہوں گی۔”