شی جن پھنگ

چین نے عالمی جدیدیت میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ، شی جن پھنگ

بیجنگ (لاہورنامہ) چین کے صدر شی جن پھنگ نے اصلاحات و کھلے پن کے عمل میں داخل ہو کر چین کی دوراندیش ترقی کی منصوبہ بندی کی اور چینی عوام کو طاقتور بنانے میں رہنمائی کی ہے۔

چین نے اپنے منفرد طریقے سے عالمی جدیدیت میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ انسانی ترقی میں سی پی سی کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ شنہوا نیوز نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان “نئے سفر پر رہنما شی جن پھنگ ” ہے ۔اس میں چین کے اعلیٰ ترین رہنما شی جن پھنگ کی حکمرانی اور روزمرہ زندگی سے متعلقہ تفصیلات اور ان کے حکمرانی تجربات کی نظریاتی بنیادیں شامل ہیں۔

مضمون میں لکھا گیا ہے کہ شی جن پھنگ نے اصلاحات و کھلے پن کے عمل میں داخل ہو کر چین کی دوراندیش ترقی کی منصوبہ بندی کی اور چینی عوام کو طاقتور بنانے میں رہنمائی کی ہے۔

دس سال پہلے جب انہوں نے حلف اٹھایا تھا تو اس وقت چین دنیا میں دوسری بڑی معیشت بن چکی تھی ،تاہم بدعنوانی ،ماحولیاتی آلودگی ،غریبوں اور امیروں میں فرق جیسے چیلنج سامنے آ رہے تھے اور انہوں نے پارٹی کے انضباط پر زور دیا اور حکمران پارٹی کی بہتری کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ۔انہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ چین کی جمہوریت ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت ہے جو عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہے۔

آئین کے سامنے حلف اٹھانے والے پہلے چینی صدر مملکت کی حیثیت سے ان کی جانب سے فروغ دی جانے والی قانون سازی کے مطابق حکمرانی قومی حکمرانی کی ایک گہری اصلاح ہے۔انہوں نے “عوام کو مرکزی اہمیت دینے ” کے اصول کے تحت ،جدت کاری،ہم آہنگی ،ماحول دوستی ،کھلے پن اور اشتراک پر مبنی نیا ترقیاتی تصور پیش کیا ہے تاکہ تمام عوام کی مشترکہ خوشحالی کی تکمیل کی جائے۔

مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ شی جن پھنگ کی قیادت میں چینی طرز کی جدیدیت انسانی سماج میں درپیش دیگر مشکلات کے حل کے لیے پیش کی جاتی ہے جسے انسانی ثقافت کی ایک نئی شکل سمجھا جاتا ہے۔