ویٹ لینڈز کنونشن

ویٹ لینڈز کنونشن ” ممالک کی اعلی سطحی کانفرنس میں ووہان اعلامیے کی منظوری

بیجنگ (لاہورنامہ) “ویٹ لینڈز کنونشن “پر دستخط کرنے والے ممالک کی 14 ویں کانفرنس کا اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس چین کے شہر ووہان میں اختتام پذیر ہوا۔ پیر کے روز چینی میڈ یا کے مطس بق اجلاس میں باضابطہ طور پر “ووہان اعلامیہ” منظور کیا گیا، جس میں تمام فریقوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ویٹ لینڈ کے عالمی انحطاط سے مجموعی نظام کو درپیش خطرات کو روکنے اور اس رجحان کو تبدیل کرنے کے لئے عملی اقدامات اختیار کریں ۔

“ووہان اعلامیے” میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 51 سال قبل ویٹ لینڈز کنونشن کے بعد سے ویٹ لینڈز کے پائیدار تحفظ کے لیے متعدد کوششیں کی گئی ہیں لیکن دنیا میں قدرتی مرطوب زمینوں کے رقبے میں بدستور 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اعلامیے میں ویٹ لینڈز کے تحفظ، بحالی اور انتظام کو آگے بڑھانے کے لیے قانون سازی اور اس کے نفاذ کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نازک ماحولیاتی نظام کے مناسب ترجیحی تحفظ اور انتظام کی حوصلہ افزائی کی جائے، ویٹ لینڈز میں پانی کی آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول کو مضبوط بنایا جائے اور عالمی سطح پر ویٹ لینڈز کا تحفظ کرنے والوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنایا جائے ۔

نیشنل فارسٹری اینڈ گراس لینڈ ایڈمنسٹریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر تان گوانگ منگ نے کہا کہ “ووہان اعلامیہ” تمام فریقوں کے اتفاق رائے پر مشتمل ایک اہم دستاویز ہے اور عالمی عزم کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دنیا کو ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر اور ویٹ لینڈ کے تحفظ کے لیے اعلی معیار کی ترقی پر چین کے عزم اور ذمہ داری کا اظہار بھی کیا گیا ہے ۔