چینی چائےکی رسم و رواج

چینی چائےکی رسم و رواج کی ثقافت کو فروغ دینےکی بہت اہمیت ہے، شی جن پھنگ

بیجنگ (لاہورنامہ) چینی صدر شی جن پھنگ نے غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے اہم ہدایات دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یونیسکو کی فہرست میں “چینی چائے بنانے کی روایتی تکنیک اور متعلقہ رسم و رواج” کی شمولیت چینی چائے کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے .

غیر مادی ثقافتی ورثے کے منظم تحفظ کے لیے کوشش کی جانی چاہئیے، عوام کی بڑھتی ہوئی روحانی اور ثقافتی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کیا جانا چاہئیے، اور ثقافتی خوداعتمادی کو فروغ دیا جانا چاہئیے۔ چین کی شاندار روایتی ثقافت کی تخلیقی تبدیلی اور اختراعی ترقی کو فروغ دینا چاہئیے.

تہذیبوں کے درمیان تبادلوں کو وسعت دینی چاہئیے، اور چین کی ثقافت بہتر طور پر دنیا تک پہنچانے کو فروغ دیا جانا چاہئیے۔ چین کی طرف سے اعلان کردہ “چینی روایتی چائے بنانے کی تکنیک اور متعلقہ رسم و رواج” نے مراکش میں منعقدہ غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے یونیسکو کی بین الحکومتی کمیٹی کے 17ویں باقاعدہ اجلاس میں جائزہ پاس کیا۔

اور اب اسے یونیسکو کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔اس وقت چین کے پاس کل 43 اشیاء ہیں جو یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں جو دنیا میں پہلے نمبر پر ہیں۔