ڈیجیٹل معیشت

چین کی ڈیجیٹل معیشت کا پیمانہ 45 ٹریلین یوآن سے زیادہ

بیجنگ (لاہورنامہ) چین کی حالیہ سینٹرل اکنامک ورک کانفرنس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت کو پوری طرح فروغ دیا جائے اور پلیٹ فارم انٹرپرائزز کی حمایت کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ترقی ، ملازمتیں پیدا کرنے اور بین الاقوامی مسابقت میں کلیدی کردار ادا کرسکیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2012 سے 2021 تک چین کی ڈیجیٹل معیشت کا پیمانہ 11 ٹریلین یوآن سے بڑھ کر 45 ٹریلین یوآن سے زیادہ ہو گیا ہے اور جی ڈی پی میں ڈیجیٹل معیشت کا تناسب 21.6 فیصد سے بڑھ کر 39.8 فیصد ہو گیا ہے۔

چین نے دنیا کا سب سے بڑا اور تکنیکی طور پر جدید ترین نیٹ ورک انفراسٹرکچر تعمیر کیا ہے ، اور صنعت ، توانائی ، صحت کی دیکھ بھال ، نقل و حمل ، تعلیم ، زراعت اور دیگر صنعتوں میں بگ ڈیٹا ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے انضمام میں تیزی آئی ہے۔ 2021 میں، چین میں سامان کی آن لائن خوردہ فروخت پہلی بار 10 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئی، اور موبائل ادائیگی کے کاروبار میں سال بہ سال 22 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

اس کے ساتھ چین نے ڈیجیٹل گورننس میں دوطرفہ اور کثیر الجہتی تعاون کو فعال طور پر انجام دیا ہے اور عالمی ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2016 کے اوائل میں ، جب چین نے جی 20 کی صدارت سنبھالی تو “ڈیجیٹل معیشت” کو جی 20 جدت طرازی کی ترقی کے بلیو پرنٹ میں ایک اہم موضوع کے طور پر درج کیا ، اور جی 20 ڈیجیٹل اکانومی ڈویلپمنٹ اینڈ کوآپریشن انیشی ایٹو کی تشکیل اور اجراء کی قیادت کی۔

2020 میں ، چین نے گلوبل ڈیٹا سیکیورٹی انیشی ایٹو کی تجویز پیش کی ، اور اب تک ، چین نے 17 ممالک کے ساتھ “ڈیجیٹل سلک روڈ” تعاون پر مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں اور 23 ممالک کے ساتھ “سلک روڈ ای کامرس” کے لئے دوطرفہ تعاون کا طریقہ کار قائم کیا ہے۔ چین ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لئے ایک کھلا ، جامع ، منصفانہ اور غیر امتیازی ماحول پیدا کرنے کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے .

چین مستقبل میں کمزور گروہوں کو اس ڈیجیٹل لہر میں ضم کرنے میں مدد فراہم کرے گا ، اور دنیا بھر کے افراد کے مفادات کے لئے ڈیجیٹل معیشت کو آگے بڑھاتا رہےگا۔