چین افریقہ سرمایہ کاری

چین افریقہ سرمایہ کاری اور سروس تجارت فورم 2022″ بیجنگ میں منعقد

بیجنگ (لاہورنامہ) 29 دسمبر کو ” چین افریقہ سرمایہ کاری اور سروس تجارت فورم 2022″ بیجنگ میں منعقد ہوا۔

“غیر معمولی بھائی چارہ، مشترکہ ترقی کے لئے مل کر کام کرنا” کے موضوع کے ساتھ، فورم کا مقصد افریقہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے چینی کاروباری اداروں کو افریقہ میں سرمایہ کاری کے تازہ ترین ماحول اور پالیسیوں کو سمجھنے، چین افریقہ پیداواری تعاون اور افریقہ کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں مدد کرنا تھا.

افریقی ممالک کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کو فروغ دینا چین کی طویل مدتی اور مضبوط تزویراتی پالیسی ہے ، اور یہ فورم چین اور افریقہ کے تمام فریقوں کی اس مضبوط آمادگی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ چین افریقہ تعلقات اور تعاون کو مضبوط بنانے اور قریبی چین افریقہ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لئے مشترکہ کوشش کرنے کے خواہاں ہیں۔

2022 اختتام پر ہے۔ رواں سال ، افریقی براعظم نے وقت کی تبدیلیوں ، وبائی حالات ، بڑی طاقتوں کے مابین صف آرائی ، عالمی حکمرانی،موسمی حالات ، جنگوں اور تناعات، اور غذائی تحفظ جیسے بے شمار بحران اور چیلنجوں کا سامنہ کیا ہے. ایک ذمہ دار بڑے ملک کی حیثیت سے، چین نے افریقی ممالک کے ساتھ ہمیشہ عملی اقدامات کے ساتھ تعاون کیا ہے تاکہ افریقی براعظم کے امن اور احیاء میں نئی قوت محرکہ ڈالی جا سکے۔

افریقہ کے ساتھ خوراک کی حفاظت چین کے تعاون کے ترجیحی شعبوں میں سے ایک رہا ہے، جہاں قدرتی آفات اکثر ہوتی ہیں اور خوراک کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے. پودے لگانے کی تکنیک سکھانے اور بیج متعارف کرانے کے علاوہ ، چین نے افریقی ممالک کو زرعی مصنوعات کے پروسیسنگ پلانٹس لگانے اور زرعی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں بھی فعال طور پر مدد کی ہے۔

نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر افریقہ کے ترقیاتی مسائل کو حل کرنے کے لئے سب سے بنیادی طریقہ ہے، جو دیہی علاقوں کو شہروں اور دنیا سے منسلک کرتا ہے، لوگوں اور سامان کی نقل و حمل کو آسان بناتا ہے اور مقامی اقتصادی اور سماجی ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ سال 2000 میں چین افریقہ تعاون پر فورم کے قیام کے بعد سے، چین اور افریقہ نے 10000 کلومیٹر سے زائد ریلوے، تقریبا 100000 کلومیٹر سڑکوں اور تقریبا 1000 پلوں کی تعمیر میں تعاون کیا ہے۔ان تاریخی منصوبوں نے مقامی معاشرے کو ٹھوس فوائد مہیا کیے ہیں ۔

صاف توانائی اور صاف پانی افریقی عوام کی زندگیوں اور افریقی ممالک کی ترقی کے لئے ناگزیر عناصر ہیں. چینی کمپنیوں نے افریقی ممالک کو ہائیڈرو پاور، ونڈ پاور، فوٹو وولٹک پاور جنریشن اور دیگر منصوبوں کو بھرپور طریقے سے فروغ دینے میں مدد دی ہیں۔ مثلاً انگولا کے صوبہ کیبینڈا میں پانی کی فراہمی کا منصوبہ، جو چینی کمپنی نے تعمیر کیا تھا مقامی باشندوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر رہا ہے۔

وسطی افریقی جمہوریہ جس میں صرف 8 فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت حاصل ہے وہاں ساکاج فوٹووولٹک پاور پلانٹ ہزاروں گھروں کو روشنیاں دیتا ہے۔ چین اور افریقہ کے درمیان تعاون پر مبنی توانائی، پانی کی فراہمی اور معاش کے دیگر منصوبے افریقی عوام کو بجلی استعمال کرنے اورپینے کا صاف پانی دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ چین نے نائجر، ٹوگو، سینیگال اور دیگرافریقی ممالک کو فعال طور پر کووڈ ویکسینز اور انسداد وبا کا مواد فراہم کیا تاکہ براعظم افریقہ کی وبا سے متاثر ہونے والی معاشی اور سماجی ترقی کو تیزی سے بحال کرنے میں مدد دی جا سکے۔

میرے جیسے چینی ، جو 60 کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے، تنزانیہ ۔ زیمبیا ریلوے کی کہانی سے بہت مانوس ہیں ، جسے ہم بچپن میں اکثر اخبارات میں پڑھتے تھے اور ریڈیو میں سنتے تھے،یہ ہمارے لئے ایک انمٹ یاد ہے۔ تنزانیہ – زیمبیا ریلوے کی تعمیر اکتوبر 1970 میں شروع ہوئی اور جولائی 1976 میں ٹریفک کے لئے مکمل طور پر کھول دی گئی۔

تنزانیہ – زیمبیا ریلوے منصوبہ چین جیسے اس وقت کے غریب ملک کی جانب سے محدود وسائل کے سہارے اپنے افریقی بھائیوں کے لئے ایک یادگار تعمیر تھی ۔یہ چین اور تنزانیہ ، زیمبیا اور افریقہ کے دیگر ممالک کے مابین دوستی کی یادگار ہے ، اور اس کا اثر و رسوخ ممالک کی سرحدوں سے آگے دو صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔

نئے دور میں چین افریقہ تعاون تنزانیہ ۔ زیمبیا ریلوے کی روح کا تسلسل ہے۔ جیسا کہ 2013 میں چینی صدر شی جن پھنگ نے اپنے دورہ تنزانیہ کے دوران کہا تھا کہ چین افریقہ تعاون “خلوص اور ایمانداری” کے تصور پر عمل پیرا ہے اور باہمی اعتماد ، باہمی فائدے ، ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل اور باہمی امداد کے جزبات پر قائم ہے۔

چین میں تنزانیہ کے سفیر مبیلوا کیروکی نے کہا کہ تنزانیہ میں لوگ براہ راست چینی دوستوں کو “ہمارے رشتہ دار” کہتے ہیں۔ اور میں اب بھی ایک سواحلی لفظ “ہاہاری ری” کہہ سکتا ہوں ، جس کا مطلب ہے خدا فاحظ ، جو مشہور چینی کراساسٹک پرفارمنس آرٹسٹ ما جی اور تھانگ جے جونگ کے کراساسٹک “اوڈ ٹو فرینڈشپ” کا ایک کلپ ہے جو ہم اکثر ریڈیو پر اپنے بچپن میں سنتے تھے ۔

اس پروگرام میں مقامی افریقی باشندوں کی طرف سے ان چینی انجینئرنگ بلڈرزکو رخصت کرتے وقت دل کو چھو لینے والے ایک منظر کو دوبارہ پیش کیا گیا جنہوں نے تنزانیہ میں تنزانیہ ۔ زیمبیا ریلوے تعمیر کیا تھا۔

جی ہاں، چین اور افریقہ رشتہ دار اور بھائی ہیں ،جن کے گوشت اور خون ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ایک ہم نصیب معاشرے کے ارکان ہیں. حقیقی جزبات اور ٹھوس نتائج چین افریقہ تعاون کا بنیادی رنگ ہیں، جسے مغربی سیاست دان کبھی نہیں سمجھ سکتے جن کا یہ یقین ہے کہ دوست ابدی نہیں بلکہ صرف مفادات ابدی ہوتے ہیں.