مستقبل کے لئے پر امید

ماضی کا جائزہ لیں اور مستقبل کے لئے پر امید رہیں

اسلام آ باد (لاہورنامہ) 2022 گزر چکا ہے اور ایک نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال ہم میں سے ہر ایک نے اور ہمارے ممالک نے بہت سے واقعات کا تجربہ کیا ہے، جو ناقابل فراموش ہیں۔

نئے سال کے لئے، ہم میں سے ہر ایک کی بہت سی توقعات اور خواہشات ہیں۔ ہم سب اپنے خوابوں کی تکمیل چاہتے ہیں، اپنی خوشیوں کو پورا ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم اپنے اردگرد خوشحالی اور امن چاہتے ہیں.

دنیا بدل رہی ہے، بہت سی تبدیلیاں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے رہی ہیں، کوئی فرد اور کوئی ملک تبدیلی کے اس دھارے سے گریز نہیں کر سکتا۔ کوئی بڑی بڑی تبدیلیوں کے دھارے میں آجاتا ہے تو کوئی بہتر زندگی کے حصول کے لیے وقت کے دھارے کے خلاف لڑ جاتا ہے۔

ہر کوئی اپنی اپنی جگہ جدوجہد کررہا ہے۔ لہذا یہ سوال بے معنی ہے کہ کسی کی جدوجہد اپنے لیے، کسی کی جدوجہد اپنے خاندان کےلیے، کسی کی جدوجہد اپنے ملک و قوم کے لیے اور کسی کی جدوجہد بہتر دنیا کے لیے ہے۔

گزشتہ سال چینی عوام نے سخت جدوجہد اور محنت کی اور چینی معیشت اور معاشرے نے مسلسل ترقی کا سفر جاری رکھا۔ بیجنگ سرمائی اولمپکس کے کامیاب انعقاد سے لے کر چینی خلائی اسٹیشن کی تکمیل تک، عظیم کامیابیوں کا ایک سلسلہ حاصل کیا گیا ہے، لیکن دوسری طرف چین نے وبائی امراض، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کی لہروں کا بھی مقابلہ کیا، بے شمار مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کیا۔

ایک طرف خوشی تھی تو دوسری طرف آنسوبھی تھے، لیکن چینی عوام ہمیشہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک بہتر زندگی صرف جدوجہد سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے، “ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور کل کے چین کو بہتر بنانے کے لئے مضبوطی سے لڑنا ہوگا”۔ جیسا کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے اپنے 2023 کے نئے سال کے پیغام میں نشاندہی کی تھی ، “کل کا چین جدوجہد کے ذریعے مزید معجزے پیدا کرے گا۔

2022 پاکستان کے لیے چیلنجز اور مشکلات سے بھرا ہوا سال تھا، اس سال پاکستان کو ایک صدی میں بے مثال شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، ملک کی ایک تہائی زمین ڈوب گئی، تین کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے، 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 20 لاکھ گھر تباہ ہوئے۔

اس کے علاوہ سیاسی تبدیلیوں نے مختلف سماجی اور معاشی مسائل کو جنم دیا اور پاکستانی عوام کو مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن پاکستانی عوام نے اتحاد اور استقامت پر بھروسہ کرتے ہوئے مشکلات اور چیلنجز پر قابو پا لیا ہے۔

2022 میں پاکستان نے سفارتی محاذ پر قابل ذکر کامیابیاں حاصل کیں، پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اینٹی منی لانڈرنگ گرے لسٹ سے نکال دیا گیا، اور سی او پی 27 میں بین الاقوامی امور پر پاکستان کے متعدد مؤقف کو وسیع پیمانے پر سراہا گیا اور اس کی حمایت کی گئی۔

پاکستانی رہنماؤں نے چین سمیت دوست ممالک کا کامیاب دورہ کیا۔ یقیناً اس سال بھی بہت سی پر مسرت اور خوشگوار یادیں پاکستان کی منتظر ہوں گی، پاکستانی عوام کا پسندیدہ کرکٹ کا کھیل مکمل طور پر بحال ہوا، آسٹریلوی اور انگلش کرکٹ ٹیموں نے کامیابی کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستانی قومی ٹیم کے ساتھ مل کر پاکستانی عوام کے لیے شاندار میچز پیش کئے۔ اسی سال کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان نے دو طلائی تمغے جیتے جو حوصلہ افزا تھے.

2023 ء نئے مواقع لے کر آیا ہے۔ رواں سال پاکستان میں عام انتخابات جیسے اہم واقعات کا ایک سلسلہ درپیش ہوگا اور پاکستانی عوام کو امید ہے کہ نئے سال میں آفات کے بعد تعمیر نو کے کام میں تیزی آئے گی ، ملک آہستہ آہستہ سیاسی استحکام کی طرف بڑھے گا ، اور معاشرتی و معاشی ترقی جاری رہے گی ، اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو تیز رفتار پیشرفت حاصل ہوگی ، جس سے پاکستانی عوام کو مزید فوائد حاصل ہوں گے۔

وقت اور زمانہ پانی کی مانند کبھی نہیں رکتا، ماضی بس مستقبل کا دیباچہ ہے. اگر کسی قوم، خاص طور پر اس کے نوجوانوں کے پاس روایات، ہنر اور ذمہ داریاں ہوں تو ملک کا مستقبل روشن ہوگا اور قوم پرامید ہوگی۔ آئیے نئے سال کے موقع پر چینی اور پاکستانی عوام کی خوشیوں کے لیے دعا کریں.

آئیے مل کر محنت کریں، اپنے ملک و قوم کے مستقبل کے لیے، دونوں ممالک کے درمیان آہنی دوستی کے لیے، اور چین پاکستان ہم نصیب معاشرےکے مستقبل کے لیے، کیونکہ یہ دونوں عوام کی مشترکہ امیدوں اور خوابوں کو لے کر چلتا ہے۔