چین کو بدنام

کچھ مما لک وبا کے بہانے چین کو بدنام کرنے میں ملو ث ہیں، چینی میڈ یا

بیجنگ (لاہورنامہ)کچھ چینی میڈیا نے اپنے شائع شدہ تبصروں اور مضامین میں نشاندہی کی ہے کہ امریکہ سمیت وہ ممالک جو چین کو “کھولنے دو” کے لئے چیختے تھے، اب دوبارہ تماشا کرنا شروع کر رہے ہیں۔ انہوں نے چین سے آنے والے مسافروں کے لئے پابندیوں کی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔

ان پابندیوں کے جواز کے طور ان ممالک کا کہنا ہے کہ چین کی گھریلو وبائی صورتحال “نئے متنوع وائرس کوجنم دے سکتی ہے”۔ واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں متعدد وبائی امراض کے ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے تنقید کی ہے کہ امریکی حکومت کا فیصلہ “بے معنی ، غیر سائنسی ، غیر معقول اور غلط سمت میں ہے”۔

کچھ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ یہ کچھ ممالک کا ایک اور اجتماعی سیاسی تماشا ہے ، اور ایک بار پھروبا کے بہانے پر چین کو بدنام کرنے اور الگ تھلگ کرنے کی سیاسی تحریک ہے۔

ہالی ووڈ کے فینٹسی بلاک بسٹر فلموں کے اختتام پر ، ہم اکثر ایسے مناظر دیکھتے ہیں کہ جب شیطانی بھوت کا جسم تباہ کیا جاتا ہے اوروہ کھائی میں گر جاتا ہے تو ، ایسے میں ہمیشہ ایک بلند آواز سنائی دیتی ہے: میں لوٹ کر واپس آؤں گا!
امریکہ اور مغرب کی جانب سے دنیا کے سامنے لائی جانے والی آفات اور کبھی نہ ختم ہونے والی سیاسی پرفارمنس، بالکل اسی طرح کی ہالی ووڈ کی فلموں کے شیطانی بھوتوں کی طرح ہیں.

اگرچہ ان کے ظاہری وجود کو بار بار تباہ کیا جاتا ہے، لیکن جب تک بھوت منتشر نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ دنیا کو نقصان پہنچانے کے لیے بار بار دنیا میں واپس آتا رہے گا۔

اس بار چین میں وبائی امراض کی روک تھام اور کنٹرول کا کام ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور جب چینی حکومت نے کووڈ وائرس کے تغیر، وبائی صورتحال اور انسدادی کام کے جامع جائزے کی بنیاد پر صورتحال کے مطابق انسدادی پالیسی کو ایڈجسٹ کیا .

تو کچھ مغربی میڈیا نے اسے ” بے حد تیز رفتار اور بغیر کسی انتباہ کی” تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی وبائی انسدادی پالیسی “مکمل ناکامی” پر ختم ہوئی۔ یہ بیانات پڑھ کر لوگ گزشتہ تین سالوں میں امریکہ اور مغرب کی جانب سے تمام مراحل پر چین کے انسداد ی اقدامات کی لامتناہی بدنامی اور اسے داغدار کرنے کی کارروائیوں کو یاد کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔

یاد رہے کہ تین سال پہلے جب کووڈ۱۹ کی وبا پھوٹ رہی تھی تو ایک ایسے خطرناک وائرس کے سامنے جو انسانوں کو بہت کم معلوم تھا، چین نے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے خاموش لاک ڈاؤن اپنایا جبکہ مغربی ممالک ایسا نہ کر سکے ۔” اگر مغرب کوئی کام نہیں کر سکتا تو وہ کامیاب ہونے والوں پر حملہ کر دیتا ہے: ”چین نے لوگوں کو نقل و حرکت کی آزادی سے محروم کر دیا”۔ یہ تھا مغربی مڈیا کا دعویٰ۔

پھر 2021 سے 2022 تک وائرس کی پیتھوجینک شرح اور اموات کی شرح بلند سطح پر رہی ، چین نے متحرک زیروٹالرنس پالیسی کے تحت ، کنٹرول کے ٹارگیٹڈ اقدامات اپنائے۔ ایک بار پھر امریکہ اور مغرب ایسا نہیں کر سکے،” اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے انہوں نے ایک بار پھر چین کے خلاف بیان بازی شروع کردی”۔

کہا گیا ” گزشتہ تین سالوں میں، سخت ” زیرو کووڈ ” کی حکمت عملی نے چینی عوام کی آزادی کو سلب کردیا ، اور پورے ملک کو ” زیرونگ ” کی پالیسی سے بہت پریشان کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کی مصیبتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 100 دن سے زائد عرصے سے عام لوگوں کو اپارٹمنٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے، اور انہیں حصول خوراک اور معاشی مسائل کا سامنا ہے” وغیرہ وغیرہ
2022 کے آخر تک ، وائرس کی پیتھوجینک شرح اور اموات کی شرح میں نمایاں کمی کے پیش نظر ، چین نے مشروط طور پر کھولنے کا انتخاب کیا تب مغرب نے چین کی وبائی انسدادی پالیسی کو “مکمل ناکامی” قرار دیا .

جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی بنیادی منطق یہ ہے کہ “تم مجرم پیدا ہوئے تھے”، اور ہماری سیاسی درستگی کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ، یہ ہے ہماری سیاست ہے!

” چین سے باہر اگر آپ کو صرف سوشل میڈیا اور کچھ مغربی میڈیا کے ذریعے چین میں وبا کے بارے میں معلومات ملتی رہی ہیں تو آپ کو محسوس ہوا ہوگا کہ ہر طرف رونق میں کمی کے ہولناک مناظر ہیں۔ لیکن حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔”

یہ بیجنگ سے تنزانیہ کے میڈیا “دی سیٹیزن” کی رپورٹ ہے۔ اس وقت، چین میں حقیقی صورت حال یہ ہے کہ چین کے مختلف حصوں میں پیداوار اور زندگی کی ترتیب آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہے، مختلف مقامات پر “زندگی کی رونقیں” واپس آ رہی ہیں اور مصروفیت میں تیزی آ رہی ہے، ملک میں سنیما آپریٹنگ کی شرح تقریباً 80 فیصد تک بڑھ گئی ہے.

بہت سے مقامات پر سیاحت کی مارکیٹ تیزی سے بحال ہوئی ہے، چین کے گھریلو ہوائی ٹکٹ ، ہوٹل کی سرچنگ اور بکنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،جزیرہ ہائی نان کے شہر سان یا کے ساحل پر ایک بار پھر ملک بھر سے آنے والے سیاح لہروں میں کھیلتے ہوئے نظر آنے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ٹریفک جام ، جس سے بیجنگ کے رہنے والے بہت پریشان تھے، دوبارہ نظر آنے لگا ہے،تو بیجنگ والوں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ “بیجنگ کو ایسا ہی ہونا چاہئے”، “بیجنگ واپس آ گیا ہے!”

اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ، میں ایک بار پھر وائرس کا سراغ لگانے والی لہر کو یاد کیے بغیر نہیں رہ سکتا جسے امریکہ اور مغرب وبا کے آغاز سے ہی چین کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کر رہے تھے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخالفین کے خلاف اس کے “اصل گناہ کی صلیبی جنگ” کبھی نہیں رکی ہے۔

سرد حقیقت یہ ہے کہ امریکہ وہ ملک ہے جس میں سب سے پہلے وائرس کی ترتیب نو کی تحقیق کی گئی اور وہاں سب سے مضبوط ریسرچ کی صلاحیت پائی جاتی ہے ۔ امریکہ عالمی سطح پر کورونا وائرس کی تحقیق کا سب سے بڑا سپانسر اور عمل درآمد کرنے والا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے پروفیسر رالف بیرک کی ٹیم اور ان کی لیبارٹری اس طرح کی تحقیق کے اعلیٰ ترین محقق ہیں، اور طویل عرصے سے کورونا وائرس ترکیب مشین میں ترمیم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں.

بیرک نے خود اطالوی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ مصنوعی طور پر وائرس کو بغیر کسی نشان کے تبدیل کرسکتے ہیں. ” میں لوٹ کر واپس آؤں گا! “، حقائق بار بار لوگوں کو اس ظالمانہ حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ جب تک امریکہ اور مغرب کے دلوں میں موجود شیطانی بھوت منتشر نہیں ہوتا، جسم کی بار بار تباہی کے باوجود ، یہ بار بار دنیا میں آفات ساتھ لے کر واپس آئے گا، شاید شیطانی الفاظ کے ساتھ، یا تو شاید شیطانی وائرس کے ساتھ، کون جانتا ہے؟