وائرس کی تبدیلی

امریکہ میں پھیلنے والے وائرس کی تبدیلی جاری ہے، امر یکی سی ڈی سی

بیجنگ (لاہورنامہ) 5 جنوری سے امریکہ نے وائرس کے ممکنہ نئے ویرینٹ کے پھیلنے کے خطرے کے بہانے چینی مسافروں کی امریکہ آمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

درحقیقت چین میں موجود وائرس بی اے فائیو کی سب کلاس چند ماہ پہلے سے ہی امریکہ میں موجود تھی۔ ظاہر ہے کہ چین وبا کے عالمی پیمانے پر پھیلاؤ سے متاثر ہونے والا ملک ہے اور امریکہ حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے سائنس کی خلاف ورزی کرکے ایک بار پھر سیاسی کھیل کھیل ر ہا ہے۔

امریکی سی ڈی سی کے اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں پھیلنے والے وائرس کی تبدیلی جاری ہے اور ایکس بی بی ایک عشاریہ پانچ اب امریکہ کا نمبر ون وائرس ہے جوکہ شمال مشرقی امریکہ میں کووڈ کے پچہتر فیصد کیسز کا باعث بنا ہے۔

اس وقت دنیا کے کم از کم چہتر ممالک اور علاقوں میں ایسے ہی وائرس شناخت کئے گئے ہیں اور متعدد امریکی ماہرین کا کنہا ہے کہ امریکہ میں ایکس بی بی ایک عشاریہ پانچ کا پہلا کیس گزشتہ سال اکتوبر کےاواخر میں نیویارک اور ریاست کنیکٹی کٹ میں سامنے آیا تھا اور تب چین میں انسداد وبا کی سخت پالیسی نافذ تھی۔ گیارہ نومبر دو ہزار بائیس کو چین نے انسداد وبا کے بیس نئے اقدامات کا اعلان کیا تھا اور پھر سات دسمبر کومزید دس نئے اقدامات کا اعلان کیا۔

چاہے اس وقت چین میں موجود بی اے فائیو کا وائرس ہو یا ان دنوں چین میں سامنے آنے والے ایکس بی بی ایک عشاریہ پانچ کا وائرس ہو، دونوں امریکہ سمیت دیگر ملکوں کے مقابلے میں کافی تاخیر سے چین میں پھیلے ہیں۔ چین میں جو وائرس پھیل رہا ہے ، وہ بہت پہلے ہی دنیا کے دیگر علاقوں میں پھیل چکا تھا۔

کووڈ کے پوری دنیا میں پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ نئے ویرینٹ سامنے آتے رہیں گے ۔ لہذا چینی مسافروں پر خصوصی پابندی عائد کرنے کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں ہے اور یہ پابندیاں ضروری بھی نہیں ہیں۔

گزشتہ تین سالوں سے چین عوام کی صحت کو اولین ترجیح دیتا رہا ہےاور اپنے انسداد وبا کے اقدامات کو مسلسل بہتر بنانے کی بدولت وبا کے باعث شرح اموات کا پوری دنیا میں کم ترین معیار برقرار رکھا ہوا ہے۔تین سالوں کے حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ سیاسی کھیل وبا کے پھیلاؤ کو نہیں روک سکتا اور مشترکہ تعاون ہی درست راستہ ہوگا۔ چینی مسافروں پر امریکہ کی جانب سے پابندیاں غلط اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔