کرونا وبا کو شکست

یکجہتی اور تعاون سے کرونا وبا کو شکست دینا بہت آسان ہے، چین

بیجنگ (لاہورنامہ) کووڈ ۱۹ کی وبا کو شروع ہوئے تین سال گزر چکے ہیں۔ یہ تقریبا ایک صدی کی انسانی تاریخ میں صحت عامہ کی بدترین عالمی ہنگامی صورتحال ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران دنیا میں کووڈ ۱۹ کے مصدقہ کیسز کی مجموعی تعداد 66 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور وبا سے ہونے والی براہ راست اور بالواسطہ اموات لاکھوں تک پہنچ چکی ہیں۔

بنی نوع انسان اسی “گلوبل ولیج” میں رہتے ہیں، ہماری تقدیریں جڑی ہوئی ہیں، ہمیں ان “زخموں” کے آگے کیا کرنا چاہئے ؟ وبا کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اتحاد اور تعاون اس وبا کو شکست دینے کے لیے بنی نوع انسان کے سب سے طاقتور ہتھیار ہیں۔

وبا کے آغاز کے بعد تمام ممالک کے لوگوں کو تیزی سے احساس ہوا ہے کہ صحت عامہ کے بڑے پیمانے پر ہونے والے واقعات کے پیش نظر کوئی بھی ملک اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا اور صرف انسانی صحت کے ہم نصیب معاشرے کی مشترکہ تعمیر سے ہی بنی نوع انسان مستقبل کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

2020 کے آغاز میں جب چین میں وبائی صورتحال بدترین تھی تو بین الاقوامی برادری نے چین کو بھرپور حمایت اور مادی امداد فراہم کیں۔ اس ناقابل فراموش منظر کو چینی عوام کبھی فراموش نہیں کریں گے کہ ٹوکیو، جاپان میں ایک جاپانی لڑکی عطیہ باکس پکڑے ہوئے ٹھنڈی ہوا میں کھڑی تھی.

جس پر “ووہان، چین کے لئے” کے الفاظ درج تھے، اور وہ ہر راہگیر کا، جس نے فراخدلی سے عطیہ دیا ، شکریہ ادا کرتی تھی . پاکستان نے بروقت طریقے سے چین کو بڑی مقدار میں امداد فراہم کی اور وبا کے عروج پر پاکستانی صدر عارف علوی نے مارچ 2020 میں چین کا دورہ کیا اور وبا کے خلاف چین کی جنگ میں پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔

جب مختلف ممالک میں یہ وبا زور پکڑ رہی تھی تو چین نے غیر مشروط طور پر اپنے انسداد وبا کے تجربے اور طریقوں کو دنیا کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے 120 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کو ویکسین کی 2.2 ارب سے زائد خوراکیں فراہم کیں، 153 ممالک اور 15 بین الاقوامی تنظیموں کو بڑی مقدار میں انسداد وبا کا سامان فراہم کیا اور 34 ممالک میں طبی ماہرین کی ٹیمیں بھیجی گئیں۔

یہ وبا عالمی سطح پر صحت کی سلامتی کے نظام کا ایک امتحان ہے ۔ عالمی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے، ہمیں ایک وسیع نقطہ نظر اور ذہن رکھنے کی ضرورت ہے، عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے طاقتور قوتوں کو جمع کرنے اور انسانی صحت کےہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔