جعلی دودھ

جعلی دودھ قصور کے گاوں میں تیار کر کے مختلف راستوں سے لاہور لایا جا رہا تھا : ڈی جی فوڈ اتھارٹی

لاہور:ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) محمد عثمان کی سربراہی میں رات گئے اور علی الصبح کارروائیوں میں جعلی دودھ سپلائی کرنے والے4 ٹرک پکڑے گئے۔ ویجیلنس ٹیموں کی ریکی کے بعدپکڑا گیا کیمیکل اور پاوڈر سے تیار 15 ہزار لیٹر جعلی دودھ تلف کر دیا گیا۔

کیمیکل زدہ دودھ لانیوالے چاروں ٹرک اور ڈرائیور زیر حراست ہیں۔تفصیلات کے مطابق ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی سربراہی میں رات گئے اور علی الصبح لاہور میں کی گئی کارروائیوں کے دوران جعلی دودھ کے 4 ٹرک پکڑے گئے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی ویجیلینس ٹیموں نے رات کے اندھیرے میں لاہوریوں کو جعلی دودھ سپلائی کرنے کی بڑی کوشش ناکام بنا نے کیلئے سپلائی چین کا پتہ لگایا تھا۔کیمیکلز اور پاوڈر سے بنے جعلی دودھ کے خلاف اب تک کی بڑی کارروائی میں15 ہزار لیٹر جعلی دودھ تلف کر دیا گیا ہے۔جعلی دودھ قصور کے گاؤں میں تیار کر کے مختلف راستوں سے لاہور لایا جا رہا تھا۔جعل سازی میں جی اے ایم 5288، ڈی جی پی 9020، ایل ای ایس 1520 اور ایل ای آئی 1557 نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کا استعمال کیاجا رہا تھا۔زہریلا دودھ لانیوالے چاروں ٹرک اور ڈرائیور زیر حراست ہیں۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ اصل مجرموں کا سراغ لگنے تک گاڑیاں اور ڈرائیور زیر حراست رہیں گے۔ ملاوٹ مافیا خالص کھلے دودھ کے نام پر عوام کو زہر سپلائی کی کوشش کر رہاتھا۔کیپٹن (ر) محمد عثمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق دودھ میں ملاوٹ کے لیے جامع پالیسی تیار کر رہے ہیں۔

دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ کار بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاسچرائزشن پالیسی ہی دودھ میں ملاوٹ کا واحد حل ہے، 2022ء تک عملی تیاری مکمل کر لیں گے۔صوبہ بھر میں پاسچرائزشن قانون لاگو ہونے سے دودھ میں ملاوٹ کا مکمل خاتمہ یقینا ممکن ہو سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں