ترقی کا انجن

چین دنیا کا سب سے بڑا ترقی کا انجن ہے، چینی میڈ یا

بیجنگ (لاہورنامہ)دنیا میں سب سے بڑا ترقی کا انجن چین اس سال عالمی اقتصادی ترقی میں ایک تہائی حصہ ڈالے گا .

چند روز قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 2023 میں چین کی جی ڈی پی نمو کی پیش گوئی بڑھا کر 5.4 فیصد تک کردی ۔ گولڈمین ساکس، یو بی ایس اور دیگر غیر ملکی مالیاتی اداروں نے بھی حال ہی میں 2024 کے لئے چین کے اقتصادی نقطہ نظر پر اپنی اپنی رپورٹ جاری کی ہے، جن میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ چین کی معیشت کی بحالی جاری رہنے کی توقع ہے.

چین کی معیشت لچکدار ہے، اس میں مکمل صلاحیت ہے اور اس کی طویل مدتی مثبت ترقی کا رجحان تبدیل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا۔منگل کے روز ایک رپورٹ کے مطابق ” چین کے پاس ایک منفرد فائدہ بھی ہے یعنی مضبوط مقامی مارکیٹ، جسے دنیا پوری طرح تسلیم کرتی ہے۔ چین کی آبادی 1.4 ارب سے زائد ہے جو موجودہ ترقی یافتہ ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔

یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنے والے 15 سالوں میں ، چین کی مڈل کلاس 400 ملین سے بڑھ کر 800 ملین ہوجائے گی۔ چینی مارکیٹ میں ترقی یافتہ مارکیٹوں کا استحکام ،اعلی معیار اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی تیز رفتار ترقی کی صلاحیت موجودہ ہے ۔

اس سال چین کی اصلاحات اور کھلے پن کی 45 ویں سالگرہ ہے۔ چین کے ٹاپ 10 تجارتی شراکت داروں میں سے آٹھ اپیک کے ارکان ہیں اور چین 13 اپیک معیشتوں کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے۔

حالیہ اپیک اجلاس کے دوران چین نے کھلے پن کو فروغ دینے کے لئے متعدد نئے اقدامات کا اعلان کیا ، جس سے ایک بار پھر ظاہر ہوتا ہے کہ “مارکیٹ اور قانون پر مبنی اور بہتر سے بہتر بین الاقوامی کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لئے چین کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی.

اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے اعلی معیار کی خدمات فراہم کرنے کی پالیسی بغیر کسی امتیاز کے جاری رہے گی” جو اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ چین بیرونی دنیا کے لئے اپنے اعلی ٰ سطحی کھلے پن کو وسعت دیتا رہے گا، جس کے بارے میں عالمی کاروباری برادری مطمئن ہے۔

کاروباری افراد مارکیٹ کا سب سے بہتر احساس رکھتے ہیں۔ ایم چیم چائنا کی جانب سے رواں سال کیے گئے ایک سروے کے مطابق چین میں 66 فیصد امریکی کمپنیاں اگلے دو سالوں میں چین میں اپنی سرمایہ کاری برقرار رکھیں گی یا اس میں اضافہ کریں گی۔

رواں سال کے پہلے 10 ماہ میں چین میں 41 ہزار 947 غیر ملکی سرمایہ کاری والے نئے کاروباری ادارے قائم ہوئے جو سال بہ سال 32.1 فیصد اضافہ ہے۔ یہ چین میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے اعتماد کا ووٹ ہے اور یہ تصدیق کرتا ہے کہ مستقبل میں، جو بھی چینی مارکیٹ کو چھوڑ دے گا وہ مواقع سے ہاتھ دھو بیٹھےگا . جیسا کہ سنگاپور کے وزیر اعظم لی سین لونگ کا ماننا ہے کہ ایک مضبوط چین خطے اور دنیا پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔