ایک ہی سمت میں گامزن

چین -جاپان -جنوبی کوریا ، دوبارہ ایک ہی سمت میں گامزن ہیں، چینی میڈیا

بیجنگ (لاہورنامہ) چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ نے چار سال سے زائد عرصے کے بعد ایک بار پھر ملاقات کی ہے۔ منگل کے روز چینی نشر یاتی ادارے کے مطا بق جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہونے والے چین -جاپان -جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ کے دسویں اجلاس میں تینوں ممالک نے سہ فریقی تعاون کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا اور مشترکہ تشویش کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

رائے عامہ کا ماننا ہے کہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی موجودہ ملاقات نے اگلے مرحلے میں چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے سربراہی اجلاس کے انعقاد کے لیے حالات اور ماحول کو سازگار کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ 1999 میں باضابطہ طور پر چین – جاپان – جنوبی کوریا تعاون میکانزم قائم کیا گیا تھا اور رفتہ رفتہ یہ ایشیا میں سب سے زیادہ بااثر ذیلی علاقائی تعاون میکانزم بن گیا ۔ گزشتہ چند سالوں میں خطے سے باہر کی غیر ملکی طاقت نے ایشیا میں محاذ آرائی اور تقسیم کو ہوا دی اور کورونا کی وبا کے باعث چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ اور رہنماؤں کے اجلاس عارضی طور پر معطل ہوگئے ۔

مبصرین نے نشاندہی کی ہے کہ سان فرانسسکو میں چین اور امریکہ کے سربراہان مملکت کے درمیان حالیہ ملاقات میں اہم اتفاق رائے طے پائے ، جس نے چین- جاپان اور چین- جنوبی کوریا سفارتی رابطوں کے لیےخارجی حالات فراہم کیے ہیں۔

چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان تعاون کا رجحان کیسے جاری رکھا جائے؟ اس کی کلید 2019 میں منعقدہ آٹھویں سہ فریقی سربراہ اجلاس میں طے پانے والے “اگلی دہائی میں سہ فریقی تعاون کا آؤٹ لک” جیسے اتفاق رائے پر عمل درآمد کرنا ہےاور اتفاق رائے پر کیسے عمل درآمد کیا جائے؟اس کی کلید بیرونی مداخلت کو خارج کرنا ہے.

اس سلسلے میں جاپان اور جنوبی کوریا میں آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ اگر دونوں ممالک امریکہ کی اندھا دھند پیروی کرتے ہوئے چین کے بارے میں اپنی عملی اور استدلالی پالیسیز کو ترک کر دیتے ہیں تو وہ بالآخر اپنے مفادات کو نقصان پہنچائیں گے اور مشرقی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے بھی بہت سے پوشیدہ خطرات پیدا کریں گے۔

چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان تنازعات ،معمول کی بات ہےلیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک دوسرے کے بارے میں درست فہم برقرار رکھی جائے اور تنازعات کو تعاون کی مجموعی صورتحال میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ چین دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ جاپان اور جنوبی کوریا کے تعلقات کی ترقی کا احترام کرتا ہے ، لیکن کسی بھی طرح کے تعلقات کو اپنے ہمسایوں کو روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہئیے۔

چین، جاپان اور جنوبی کوریا قریبی ہمسایہ ممالک ہیں جنہیں کہیں اور منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ چین ہمیشہ خوشگوار ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے اور امید کرتا ہے کہ جاپان اور جنوبی کوریا بھی خواہش ، عزم اور مزید سٹریٹیجک خودمختاری کا مظاہرہ کریں گے اور چین کے ساتھ مل کر سہ فریقی تعاون کی جامع بحالی نیز مستحکم اور طویل مدتی ترقی کو فروغ دیں گے ۔