چین میں تعلیمی مواقعوں

اسلام آباد: “چین میں تعلیمی مواقعوں” کے موضوع پر ورکشاپ  کا انعقاد 

اسلام آ باد (لاہورنامہ)پاکستان سے بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے چین کے تعلیمی اداروں کے انتخاب کی بڑی وجہ صرف خواہش و عزم اور بنیادی تعلیمی معیار پر پورا اترنا، وسیع پیمانے پر مکمل اور جزوی سکالر شپس، چین کے تعلیمی اداروں کا عالمی درجہ بندی میں نمایاں ہونا اور پاکستانی طلباء و طالبات کو اچھے ماحول کا میسر آنا ہے.

یہی وجہ ہے اس وقت بھی 30 ہزار سے زیادہ پاکستانی سٹوڈنٹس چین کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔

یہ کہنا تھا اسلام آباد میں “چین مین تعلیمی مواقعوں” کے موضوع پر منعقد ہونے والی ورکشاپ کے شرکاء کا، جس کا انعقاد پاک چائنہ سٹڈی اینڈ ریسرچ سینٹر، بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد اور چائنہ میڈیا گروپ کے تعاون سے کیا گیا۔

پیر کے روز ورکشاپ میں بحریہ یونیورسٹی کے علاوہ دیگر نمایاں یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم سٹوڈنٹس، فیکلٹی ممبران اور بیرون ملک تعلیم کے لیے کنسلٹنسی سروسز فراہم کرنے والے اداروں و تعلیمی ماہرین نے شرکت کی۔

پاک چائنہ سٹڈی اینڈ ریسرچ سینٹر (بحریہ یونیورسٹی, اسلام آباد) کے ڈائریکٹر کموڈور (ر) عمران الحق نے بتایا کہ پاکستان اور چین کی تاریخی اور لازوال دوستی سے مکمل طور پر مستفید ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اب اس دوستی کو پروان چڑھانے کے نوجوان نسل کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

یہ کسی نعمت سے کم نہیں کہ عالمی رینکنگ میں پہلے دس درجوں میں شامل چین کے تعلیمی ادارے پاکستانی سٹوڈنٹس کے لیے اپنے دروازے کھول رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں قائم چائنہ سٹڈی سنٹر کی ڈائریکٹر، مس ژیانگ ژینگ نے چین کے تعلیمی اداروں میں اوورسیز سٹوڈنٹس کی بڑھتی تعداد، ان کی انفرادی اور اجتماعی معاشی و اقتصادی ترقی اور چینی معاشرے میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

بحریہ یونیورسٹی، اسلام آباد کے پرو ریکٹر، ریسرچ اننویشن سنٹر ریئر ایڈمرل (ر) احمد فوزان نے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون، پاکستانی نوجوانوں کے لیے چینی زبان سیکھنے کی مستقبل میں اہمیت اور افادیت کے حوالے سے شرکاء کا آگاہ کیا۔

سابق ڈائریکٹر سی پیک حسان داؤد بٹ نے شرکاء کو ان تعلیمی شعبہ جات کے حوالے سے بریفننگ دی جن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے نوجوان مستقبل میں سی پیک جیسے منصوبوں سے معاشی طور مستفید ہو سکتے ہیں۔

ورکشاپ میں ڈائریکٹر چائنہ میڈیا گروپ، ڈوجیننگ جنھیں پاکستانی عوام تبسم کے نام سے پہچانتے ہیں، نے چینی ثقافت اور با آسانی چینی زبان سیکھنے کے حوالے سے ایک جامع پریزنٹیشن اور شرکاء کے سوالوں کے جواب بھی دیئے۔

ورکشاپ کے آخر میں ڈائریکٹر جنرل سی پیک سیل (ہائر ایجوکیشن کمیشن) ڈاکٹر صفدر علی شاہ نے کہا کہ کسی بھی منصوبے سے عوام اس وقت تک مستفید نہیں ہو سکتی جب تک اس سے متعلق مہارت کا حصول یقینی نہ بنا لے، اسی سوچ کے تحت 2017 میں ایچ ای سی میں ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ کہ اس وقت کے مقابلے میں آج چینی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد چھ گنا زیادہ ہے۔

ڈاکٹر صفدر علی شاہ نے کہا کہ عوامی روابط بالخصوص نوجوان نسل کے درمیان روابط کا فروغ معیشت سمیت ہر شعبے میں بہتری کا ضامن ہے۔ اور اسی طرح دونوں ممالک کی لازوال دوستی کے ثمرات عوام تک پہنچنا یقینی بنایا جا سکتا ہے۔